میں نے زندگی میں کبھی نوازشریف اور شہبازشریف کو کرپٹ نہیں پایا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کہا ہے کہ میں نے زندگی میں کبھی نوازشریف اور شہبازشریف کو کرپٹ نہیں پایا، پارٹی چھوڑنے کے بعد بھبی نوازشریف اور شہبازشریف پر کرپشن کا الزام نہیں لگایا۔ انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے پاس وافر مقدار میں پیسا ہے، صوبوں میں وفاق سے زیادہ اچھے اے سی اور ڈی سی کے دفاترزہیں۔
زندگی میں کبھی نوازشریف اور شہبازشریف کو کرپٹ نہیں پایا۔ پارٹی چھوڑنے کے بعد نوازشریف اور شہبازشریف پر کرپشن کا الزام بھی نہیں لگایا۔ شہبازشریف 4سال سے حکومت میں ہیں، لیکن معیشت نہیں بڑھ رہی۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 10سال سے کہہ رہا ہوں کہ این ایف سی پر نظر ثانی کریں۔
پی ایس ڈی پی میں 4 ہزار ارب روپے وفاق کا خرچ کررہے ہیں، پی ایس ڈی پی 500ارب کم کرنا چاہیئے کیو نکہ آپ کے پاس پیسا نہیں ہے۔
60، 60 فیصد کمپنیوں اور 40فیصد تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس لے رہے ہیں۔ 110 روپے فی لیٹر پیٹرول پر ٹیکس لے رہے ہیں۔ پاکستان میں فی کس انکم 10سال سے کم ہورہی ہے۔ملکی برآمدات نہیں بڑھیں گی تو ترسیلات زر بھی بڑھنا مشکل ہوں گے اور ملک قرضوں پر ہی چلے گا۔ہم قرضوں پر خوشیاں مناتے ہیں، ایک ملک سے قرض لے کر دوسرے کو دے دیتے ہیں، پھر خوش ہوتے ہیں۔آج پاکستان کی پوری دنیا میں عزت ہے ،اس کا معاشی تعلقات کی مد میں فائدہ اٹھانا چاہیئے۔
جب ملک میں بجلی گیس مہنگی ہوگی تو آمدن کیسے بڑھے گی، پھر ترقی کہاں سے آئے گی؟ دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا۔ مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹ اضافہ کیا جس کے بعد شرح سود 10 اعشاریہ 50 فیصد سے بڑھ کر 11 اعشاریہ 50 فیصد ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ معاشی ماہرین کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ جنگ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی مارکیٹ میں معاشی بے یقینی کی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے فیصلے کا براہ راست اثر مہنگائی پر بھی پڑے گا کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر روزمرہ ضروریات کی چیزوں پر پڑتا ہے۔
