فورٹ عباس کے رہائشی بھائیوں ’’نواز شریف اور شہباز شریف‘‘ کی 37 ہزار ڈالر کرپٹو کرنسی فراڈ کیس میں عبوری ضمانت منظور


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)وفاقی دارالحکومت کی مقامی عدالت نے ‏نواز شریف اور شہباز شریف نامی دو شہریوں کی 37 ہزار ڈالر کرپٹو کرنسی فراڈ کے مقدمے میں‌ عبوری ضمانت منظور کر لی ہے
نجی ٹی وی کے مطابق این سی سی آئی اے میں‌ درج مقدمے کے تحت تحصیل فورٹ عباس اور ضلع بہاولنگر کے رہائشی محمد نواز شریف ولد محمد شریف اور محمد شہباز شریف ولد محمد شریف کے خلاف شکایت سنہ 2024 میں‌ سامنے آئی تھی جس کی انکوائری کی گئی اور بعد ازاں ایف آئی آر کاٹی گئی-ایف آئی آر کے مطابق انکوائری میں یہ سامنے آیا کہ شکایت کنندہ اسلام آباد کے رہائشی حسن محسن نے ملزمان کے جو واٹس ایپ نمبر مہیا کیے تھے وہ دونوں کے ہی تھے جبکہ بینک اکاؤنٹس بھی ملزمان سے منسلک ہیں-
مدعی مقدمہ کے مطابق دونوں ملزمان غیرملکی واٹس ایپ نمبر استعمال کر رہے تھے اور خود کو آن لائن کرپٹو کرنسی ٹریڈرز ظاہر کر کے سرمایہ کاری کی ترغیب دی-ملزمان نواز شریف اور شہباز شریف نے مدعی سے آن لائن کرپٹو کرنسی میں‌ سرمایہ کاری کے لیے 37 ہزار ڈالر لیے- اور اس کے لیے خود کو ٹریڈرز ظاہر کیا-رقم دونوں‌ کے بائنانس اکاؤنٹ میں‌ منتقل کی گئی جبکہ اس کے بعد نہ منافع دیا گیا اور نہ ہی اصل رقم واپس کی گئی-
ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ انکوائری میں‌ الزام درست پایا گیا اور ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ بینک ٹرانزیکشن ہوئی ہے-این سی سی آئی میں پیکا ایکٹ اور فوجداری دفعات کے تحت درج مقدمے میں نواز شریف اور شہباز شریف نے ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے عدالت سے رجوع کیا-
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی عدالت میں نواز شریف اور شہباز شریف کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔‏واٹس ایپ نمبر سے بھی نواز شریف اور شہباز شریف کا کوئی تعلق نہیں-
‏عدالت نے نواز شریف اور شہباز شریف کی عبوری ضمانت 5 مئی تک منظور کرتے ہوئے دونوں کو 20، بیس ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی-

WhatsApp
Get Alert