ریڈ زون میں واقع معروف کثیر المنزلہ عمارت ’ون کانسٹیٹیوشن ایونیو‘ کی لیز منسوخی کیخلاف اپیل مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے اس ہائی پروفائل کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنا دیا


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں واقع معروف کثیر المنزلہ عمارت “ون کانسٹیٹیوشن ایونیو” کی لیز منسوخی کے خلاف دائر درخواست پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے بی این پی (BNP) کمپنی کی اپیل مسترد کردی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے قلب میں واقع متنازع کثیر المنزلہ عمارت “ون کانسٹیٹیوشن ایونیو” کی قانونی حیثیت کے حوالے سے ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے بی این پی گروپ کی جانب سے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کے لیز منسوخی کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے اس ہائی پروفائل کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا، عدالت نے فی الوقت مختصر حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں درخواست کو مسترد کر دیا گیا ہے، عدالت نے قرار دیا ہے کہ کمپنی کی جانب سے لیز کی بحالی کے لیے دی گئی دلائل میں وزن نہیں ہے لہٰذا سی ڈی اے کی جانب سے لیز منسوخی کے اقدام کو برقرار رکھا گیا ہے، اس اہم کیس میں درخواست مسترد کرنے کی قانونی وجوہات اور تفصیلی مشاہدات پر مبنی مکمل فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
معلوم ہوا ہے کہ عدالت نے نہ صرف کمپنی کی درخواست پر فیصلہ سنایا بلکہ اس عمارت میں اپارٹمنٹس خریدنے والے شہریوں کی درخواستوں کو بھی نمٹا دیا، اپارٹمنٹ مالکان نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا تھا، ان درخواستوں کے نمٹائے جانے سے اب اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والے سینکڑوں خاندانوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ یہ تنازعہ کئی سالوں سے زیرِ گردش ہے، کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے واجبات کی عدم ادائیگی، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور عمارت کے نقشے میں غیر قانونی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کانسٹیٹیوشن ون بلڈنگ کی لیز منسوخ کر دی تھی، بی این پی گروپ (کمپنی) نے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ لیز کی منسوخی غیر قانونی ہے اور کمپنی تمام شرائط پوری کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس سے قبل سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے پر مداخلت کی تھی اور کمپنی کو واجبات ادا کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم معاہدے کی مکمل پاسداری نہ ہونے پر معاملہ دوبارہ قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو گیا، موجودہ عدالتی فیصلے کے بعد اب سی ڈی اے کے پاس اس عمارت کا مکمل کنٹرول سنبھالنے کا قانونی راستہ صاف ہو گیا ہے، تاہم بی این پی کمپنی اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا حق رکھتی ہے، لیکن اس سے پہلے ہی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ شاہراہ دستور میں سب سے اونچے ان لگژری ٹاورز کے تمام رہائشیوں کو انتظامیہ نے پولیس کی بھاری تعداد کے ہمراہ پہنچ کر اس عمارت کو خالی کرنے کا حکم دے دیا۔
واضح رہے کہ یہ عمارت ریڈ زون میں سپریم کورٹ اور وزیرِ اعظم ہاؤس کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے نا صرف تزویراتی بلکہ سیاسی طور پر بھی انتہائی اہمیت کی حامل رہی ہے، اب سب کی نظریں اسلام آباد ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے پر جمی ہوئی ہیں جس میں یہ واضح ہوگا کہ وہاں مقیم افراد اور اپارٹمنٹ مالکان کے حقوق کا تحفظ کس طرح کیا جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert