تربت ‘ گرین بس سروس کے اسٹاپس پر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی، مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث عوام کو ریلیف کے بجائے مزید مشکلات کا سامنا

46 ڈگری سینٹی گریڈ کی تپتی دھوپ میں شیڈز غائب، خواتین، بزرگ اور بچے ہیٹ اسٹروک اور ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہونے لگے


تربت (ڈیلی قدرت کوئٹہ) ضلع کیچ میں شدید گرمی کے باوجود گرین بس سروس کے اسٹاپس پر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے شہریوں، خصوصاً خواتین ، بچوں اور برزگ کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ 46 ڈگری سینٹی گریڈ کی تپتی دھوپ میں بھی بس اسٹاپس پر کسی قسم کی سایہ دار شیلڈز یا انتظارگاہیں قائم نہیں کی گئیں، جس کے باعث مسافروں کو کھلے آسمان تلے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔شہریوں کے مطابق خواتین، بزرگ افراد اور معصوم بچے روزانہ 30 سے 40 منٹ تک سخت گرمی میں بس کا انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔ اس دوران نہ صرف ان کی حالت غیر ہو جاتی ہے بلکہ کئی افراد گرمی سے متعلق بیماریوں جیسے ہیٹ اسٹروک، ڈی ہائیڈریشن اور دیگر امراض میں بھی مبتلا ہو رہے ہیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گرین بس سروس کا آغاز خوش آئند اقدام ضرور ہے، تاہم اس کی مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث عوام کو ریلیف کے بجائے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بس سروس شروع کرنے سے قبل اسٹاپس پر شیڈز، پینے کے پانی، بیٹھنے کی سہولت اور دیگر بنیادی انتظامات کو یقینی بنایا جانا چاہیے تھا۔متاثرہ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بس اسٹاپس پر فوری طور پر سایہ دار شیڈز نصب کیے جائیں تاکہ شہریوں کو اس شدید گرمی میں کچھ ریلیف مل سکے۔دوسری جانب عالمی حلقوں نے کہا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو عوامی ردعمل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ گرین بس سروس کو واقعی عوام دوست بنانے کے لیے اس کے بنیادی ڈھانچے کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے۔

WhatsApp
Get Alert