حکومت مدارس کے معاملے پر صبر کا مزید امتحان نہ لے، عوامی سیلاب سڑکوں پر ہوگا، مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے صوبائی پارلیمانی اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ دینی مدارس کو کسی کے دباؤ یا حکم پر نہ کھولا جائے گا اور نہ بند کیا جائے گا، مدارس کی آزادی، نصاب اور داخلی خودمختاری کے حوالے سے جمعیت علماء اسلام کی پالیسی غیر متزلزل ہے اور اسے کسی صورت مجروح نہیں ہونے دیا جائے گا، انہوں نے شیخ الحدیث، سابق ایم پی اے اور رکن مرکزی مجلسِ شوریٰ جے یو آئی مولانا ادریس کی شہادت کو انتہائی دلخراش اور افسوسناک سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آخر انہیں کس جرم کی پاداش میں نشانہ بنایا گیا، حکومت ہمارے صبر کا مزید امتحان نہ لے، مولانا ادریس ایک بلند پایہ عالم، مدبر سیاسی رہنما اور باصلاحیت خطیب تھے جنہوں نے پوری زندگی دین کی خدمت، اشاعتِ علم اور اصلاحِ معاشرہ کیلئے وقف کر رکھی تھی، ان کی ہر بات علم، اعتدال اور بصیرت کا آئینہ دار ہوتی تھی، انہوں نے کہا کہ سفید ریش عالم دین کی شہادت درحقیقت مدارس اور پاکستان کے نظریاتی تشخص پر حملہ ہے جبکہ علماء اس ملک کے نظریاتی محافظ ہیں مگر افسوس کہ ان کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے، جمعیت علماء اسلام پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ بعض صوبوں میں عملاً حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے اور ایسے واقعات اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں، انہوں نے حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کو کنٹرول کرنے اور ان پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں ایک منظم سازش کا حصہ ہیں جس کا مقصد دینی تشخص کو کمزور کرنا ہے حالانکہ یہی مدارس ہیں جنہوں نے ملک میں تعلیم کے فروغ، اخلاقی تربیت اور معاشرتی اصلاح میں بنیادی کردار ادا کیا اور لاکھوں طلبہ کو مفت تعلیم، رہائش اور تربیت فراہم کی، انہوں نے آئینی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مدارس رجسٹریشن سے متعلق بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظور ہو چکا ہے جو ایک آئینی و جمہوری راستہ تھا مگر اس کے باوجود حکومت کے غیر آئینی اور زبردستی اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اصل مقصد اصلاح نہیں بلکہ مداخلت اور کنٹرول ہے، انہوں نے قبائلی اراضی کے معاملات پر بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مدارس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دوسری طرف قبائل کی صدیوں پرانی زمینیں خفیہ طور پر من پسند افراد میں تقسیم کی جا رہی ہیں جو کھلی ناانصافی اور کرپشن ہے، انہوں نے امن و امان کی مخدوش صورتحال پر کہا کہ بلوچستان میں آج کوئی شخص محفوظ نہیں، ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں رہا، اغواء ، بدامنی اور خوف نے عوام کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے مگر حکومت کی ترجیحات اس کے برعکس نظر آتی ہیں، انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے دو سال تک صبر، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کیا مگر اب خاموشی مزید ممکن نہیں اور موجودہ حالات میں خاموش رہنا عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہوگا، انہوں نے 6 مئی کے احتجاج کے حوالے سے اعلان کیا کہ جمعیت علماء اسلام کی کال پر بلوچستان کے ہر ضلع، تحصیل اور شہر میں ایک تاریخ ساز، منظم اور فیصلہ کن احتجاج ہوگا جو محض جلسے جلوس نہیں بلکہ ایک عوامی ریفرنڈم ہوگا جس میں عوام واضح کریں گے کہ وہ مدارس کے ساتھ کھڑے ہیں یا ان کے خلاف سازشوں کے ساتھ، آخر میں انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ آئین کی پاسداری کرے، غیر آئینی اقدامات ترک کرے اور مدارس کے خلاف محاذ آرائی بند کرے بصورت دیگر عوامی سیلاب سڑکوں پر ہوگا اور جب عوام فیصلہ کرتے ہیں تو کوئی طاقت اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی، جمعیت علماء اسلام ہر محاذ پر تیار ہے اور ہر قربانی دینے کیلئے بھی تیار ہے۔
