تمپ کو ضلع کا درجہ ملنے کے باوجود بی آئی ایس پی انتظامی ڈھانچے میں نوٹیفکیشن باقی، مستحقین کو سہولتیں بڑھائی جائیں، مینا مجید بلوچ

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) ڈی جی بی آئی ایس پی بلوچستان کی مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان محترمہ مینا مجید کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ ملاقات کے دوران بلوچستان بھر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی پیش رفت اور مختلف پروگرامز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی
اجلاس میں بی آئی ایس پی کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس پی بلوچستان ڈاکٹر جلال فیض، ڈپٹی ڈائریکٹر NSER مقصود احمد بلوچ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر بی آئی ایس پی بلوچستان رضا محمد سومرو نے شرکت کی۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بلوچستان بھر میں 520,000 سے زائد مستحقین بینظیر کفالت پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ صوبے میں 48 ضلعی و تحصیل دفاتر اور 117 ڈائنامک رجسٹری سینٹرز فعال ہیں۔ وسیلۂ تعلیم پروگرام کے تحت 640,000 سے زائد بچے داخل ہیں، جبکہ بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت 291,000 سے زائد فعال مستحقین کو 89 سہولت مراکز کے ذریعے خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ نیشنل سوشو اکنامک رجسٹری (NSER) کے تحت بلوچستان میں 85 فیصد آبادی کی کوریج مکمل کی جا چکی ہے جبکہ 89 فیصد موجودہ مستحقین کی ری سرٹیفیکیشن بھی مکمل ہو چکی ہے۔
اس کے علاوہ وزیر اعظم کیش لیس اکانومی اور ای والٹ انیشیٹو کے حوالے سے بھی آگاہی دی گئی، جس کا مقصد مستحق خاندانوں کے لیے شفاف، محفوظ اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو فروغ دینا ہے۔
مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ نے بلوچستان بھر میں بی آئی ایس پی کی خدمات اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ چونکہ حکومت بلوچستان کی جانب سے تمپ کو باضابطہ ضلع کا درجہ دیا جا چکا ہے لہٰذا بی آئی ایس پی کے انتظامی ڈھانچے میں بھی تمپ کو ضلع کے طور پر نوٹیفائی کیا جائے تاکہ عوام کو مزید بہتر سہولیات اور مؤثر خدمات فراہم کی جا سکیں اور ضلع تمپ کے زیادہ سے زیادہ مستحقین کو وسیلہ پروگرام میں شامل کیا جا سکے۔ اس موقع پر ڈی جی بی آئی ایس پی نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔
