قیام پاکستان سے اب تک لوگوں کو گھر بنانے کے لیے کتنا قرض دیا گیا؟

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) قیام پاکستان سے اب تک کتنے لوگوں کو گھر بنانے کے لیے کتنا قرض دیا گیا تفصیلات سامنے آ گئیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سید نوید قمر کی زیر صدارت ہوا جس میں سیکریٹری ہاؤسنگ اس حوالے سے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔

سیکریٹری ہاؤسنگ محمد محمود کا کہنا تھا کہ ملک بننے کے بعد سے اب تک ہاؤسنگ فنانس کے تحت 65 ہزار لوگوں کو 246 ارب قرض ملا۔

سیکریٹری ہاؤسنگ کا کہنا تھا کہ قرض لینے کی وجہ مارگیج سے متعلق قانون سازی نہ ہونا ہے۔ اگر قانون سازی نہ کی گئی تو لوگ مکان بناتے بناتے رُل جائیں گے۔ حکومت مکانات کی تعمیر کیلیے سالانہ 200 سے 300 ارب شرح سود کی سبسڈی برداشت کرے گی۔

چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ یہ رقم کہاں سے آئے گی؟ اس کا سیکریٹری خزانہ کی مسکراہٹ سے جواب معلوم ہو گیا ہے۔ ابھی تک ہم دو الگ الگ دنیاؤں میں رہ رہے ہیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ جب اسکیم مکمل رفتار سے چلے گی تو فنانس حاصل کر لی جائے گی۔ فی الحال تو اسکیم کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جب حکومت کہے گی تو پھر حل نکال لیا جائے گا۔

سیکریٹری خزانہ کا کہنا تھا کہ اس وقت بجلی سبسڈی کافی زیادہ ہے جب کہ بی آئی ایس پی کو بھی کافی رقم دے رہے ہیں۔ کچھ جگہ کٹوتی کر کے اس اسکیم کیلیے رقم رکھی جا سکتی ہے۔

نوید قمر نے استفسار کیا کہ بینک کیوں اس رسکی مارکیٹ میں آئیں گے، جس پر وزیر خزانہ نے کہا کہ مالیاتی نظام میں نظم وضبط آنے کے بعد ہاؤسنگ فنانس بڑھے گا۔ حکومت بینکوں سے قرض لینا کم کرے گی، تو بینک ہاؤسنگ فنانس کی طرف آئیں گے۔

WhatsApp
Get Alert