میگنیشیم کا کمال: نئی دوا چکنائی اور چینی سے بھرپور غذا کے باوجود موٹاپا ختم کرنے لگی

امریکہ (قدرت روزنامہ)سائنسی ماہرین ومحقیقین نے ایک ایسے چھوٹے سالماتی مرکب کی نشاندہی کی ہے جو طویل عرصے تک مغربی طرز کی غذا کھانے والے چوہوں میں وزن بڑھنے اور میٹابولزم کو پہنچنے والے نقصان کا مقابلہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔
امریکا کی یونیورسٹی آف ٹیکساس ہیلتھ سائنس سینٹر سان انتونیو کے محققین کی تیار کردہ ایک نئی دوا نے چوہوں کو اس وقت بھی موٹاپے سے بچائے رکھا جب انہیں طویل مدت تک چینی اور چکنائی سے بھرپور مغربی غذا دی جاتی رہی۔ اس علاج نے جانوروں کو ناقص خوراک سے جگر کو پہنچنے والے نقصان، چکنائی جمع ہونے اور ٹیومر بننے جیسے مسائل سے بھی محفوظ رکھا۔
جو آر اینڈ ٹریسا لوزانو لانگ اسکول آف میڈیسن کے شعبۂ طب کے پروفیسر ڈاکٹر مادیش مونی سوامی نے کہا، “جب ہم یہ دوا چوہوں کو مختصر مدت کے لیے دیتے ہیں تو ان کا وزن کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ سب کے سب دبلے پتلے ہوجاتے ہیں۔” یہ نتائج جریدے “سیل رپورٹس” میں شائع ہوئے ہیں۔
یو ٹی ہیلتھ سان انتونیو کے سینٹر فار مائٹوکانڈریل میڈیسن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مونی سوامی اس تحقیق کے سینئر مصنف تھے، جبکہ یونیورسٹی آف پنسلوانیا اور کارنیل یونیورسٹی کے سائنس دان بھی اس تحقیق میں شریک رہے۔
میگنیشیم پر توجہ کیوں دی گئی؟
میگنیشیم انسانی زندگی کے لیے نہایت ضروری عنصر ہے۔ یہ خون میں شوگر اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے، ہڈیوں کو مضبوط بنانے اور خلیات میں ہونے والے متعدد کیمیائی عوامل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ جسم میں کیلشیم، پوٹاشیم اور سوڈیم کے بعد چوتھا سب سے زیادہ پایا جانے والا مثبت آئن بھی ہے۔
تاہم تحقیق کے مطابق مائٹوکانڈریا کے اندر میگنیشیم بعض اوقات توانائی بڑھانے کے بجائے “بریک” کا کردار ادا کرتا ہے۔ جب میگنیشیم ایم آر ایس 2 نامی جین کے زیرِ کنٹرول ایک چینل کے ذریعے مائٹوکانڈریا میں داخل ہوتا ہے تو یہ خلیات کی شوگر اور چکنائی جلانے کی صلاحیت کو سست کرسکتا ہے۔
تحقیق کے شریک مرکزی مصنف اور ڈاکٹریٹ کے طالب علم ٹریوس آر ماداریس نے کہا، “یہ بریک لگا دیتا ہے، یعنی نظام کی رفتار سست ہوجاتی ہے۔”
اس خیال کو جانچنے کیلئے محققین نے چوہوں میں ایم آر ایس 2 جین کو ختم کردیا اور انہیں 52 ہفتوں تک مغربی غذا کھلائی۔ عام چوہوں کا وزن بڑھ گیا اور ان میں میٹابولک بیماریوں کی علامات پیدا ہوگئیں، جبکہ ایم آر ایس 2 سے محروم چوہے دبلے رہے، حالانکہ وہ تقریباً اتنا ہی کھانا کھاتے، پانی پیتے اور حرکت کرتے تھے جتنا دوسرے چوہے کرتے تھے۔
ان کا میٹابولزم بھی زیادہ متحرک نظر آیا۔ یہ چوہے شوگر اور چکنائی کو توانائی میں تبدیل کرنے میں زیادہ بہتر ثابت ہوئے، جبکہ ان کی سفید چربی میں “براؤننگ” کے آثار بھی دکھائی دیے، یعنی چربی کی وہ قسم جو زیادہ توانائی جلاتی ہے۔محققین کا ماننا ہے کہ نئی دوا کی مدد سے چکنائی اور چینی کھانے والے انسانوں کو بھی وزن کم کرنے میں مدد ملے گی۔
