اوورسیز پاکستانیوں کیلئے موبائل ٹیکس میں کمی کا امکان، حکومت مختلف تجاویز پر غور کرنے لگی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے موبائل فون ٹیکس میں ممکنہ رعایت دینے کی تجاویز پر غور شروع کر دیا ہے تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مالی سہولت فراہم کی جا سکے۔
وزیرِ پارلیمانی امور Dr. Tariq Fazal Chaudhry نے سینیٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اوورسیز پاکستانی مختلف تقریبات اور ملاقاتوں میں موبائل فون ٹیکس سے متعلق شکایات اور مطالبات پیش کرتے رہتے ہیں، جس کے بعد حکومت اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ نظام کے تحت بیرون ملک سے آنے والے افراد اپنے موبائل فونز کو پاکستان میں تین ہفتوں تک بغیر ٹیکس کے استعمال کر سکتے ہیں، تاہم اس مدت کے بعد فون کی سروس بند ہو جاتی ہے اور اسے فعال رکھنے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کا مقررہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ ٹیکس کی شرح مختلف موبائل ماڈلز کے حساب سے مقرر کی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں موبائل فون ٹیکس اور ڈیوٹیز میں نرمی یا ردوبدل پر غور کر رہی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو ہدایت کی ہے کہ ان ٹیکسز کا دوبارہ جائزہ لیا جائے تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔
حکام کے مطابق ٹیکس پالیسی یونٹ اس وقت مختلف تجاویز اور شرحوں کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ موبائل رجسٹریشن کے نظام کو مزید آسان اور جدید بنایا جا سکے۔
حکومت کو امید ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سہولت ملے گی بلکہ ان کے پاکستان آنے میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانی ملک کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں مرتب کی جا رہی ہیں۔
