معرکہ حق عسکری کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی نظریاتی جدوجہد کی علامت ہے، میر شفیق الرحمن مینگل

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما میر شفیق الرحمن مینگل نے معرکہ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں کہا کہ معرکہ حق محض ایک عسکری کامیابی کی یاد نہیں بلکہ یہ اس عظیم نظریاتی جدوجہد کی علامت ہے جس نے دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک عہد اور امتِ مسلمہ کی اجتماعی امیدوں کا مرکز ہے، آج سے ایک سال قبل جس عزم، بصیرت اور قومی یکجہتی کے ساتھ پاکستان نے دشمن کی سازشوں، ہندوتوا سوچ پر مبنی توسیع پسندانہ عزائم اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کیا، وہ تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔یہ معرکہ دراصل حق اور باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن مرحلہ تھا۔ ایک جانب وہ قوتیں تھیں جو برصغیر میں ہندو بنیے کے تعصبانہ، استحصالی اور بالادستی کے نظریے کو مسلط کرنا چاہتی تھیں، اور دوسری جانب پاکستان تھا جو قائداعظم محمد علی جناح کے وژن، علامہ اقبال کے فکر اور لاکھوں شہداء کی قربانیوں کی بنیاد پر اپنے وجود اور نظریاتی اساس کا دفاع کر رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل، افواجِ پاکستان کی پیشہ وارانہ مہارت، قومی قیادت کی بصیرت اور عوام کی غیر متزلزل حمایت نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔یہ حقیقت آج عالمی سطح پر تسلیم کی جا رہی ہے کہ پاکستان نے نہ صرف اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے امید، استقامت اور خودداری کی ایک نئی مثال قائم کی۔ معرکہ حق نے یہ ثابت کیا کہ جب قوم نظریہ? پاکستان کے گرد متحد ہو جائے تو کوئی بیرونی سازش، کوئی اندرونی انتشار اور کوئی فتنہ اسے شکست نہیں دے سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان عالمِ اسلام کے لیے حوصلے، خود اعتمادی اور استقلال کی علامت بن کر ابھرا ہے۔میر شفیق الرحمن مینگل نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے بلوچستان جیسے حساس خطے میں دشمن نے ہمیشہ اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے ہندو پراکسیز، لسانی و نسلی عصبیت، اور قومیت کے نام پر فساد برپا کرنے والے عناصر کو استعمال کیا۔ معصوم اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام، عوام کو خوفزدہ کرنا، ترقیاتی عمل کو سبوتاڑ کرنا اور نوجوان نسل کو گمراہ کرنا انہی سازشوں کا حصہ رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ چند نام نہاد سرداروں نے ذاتی مفادات، اقتدار کی ہوس اور اپنی کھوکھلی بالادستی کو قائم رکھنے کے لیے دشمن کے بیانیے کو تقویت دی بلوچستان کے امن، ترقی اور مستقبل کے خلاف گھناونا کردار ادا کیا۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے باشعور عوام بخوبی جانتے ہیں کہ اصل قوت پاکستان کے ساتھ وابستگی، قومی وحدت اور آئینی جدوجہد میں ہے، نہ کہ ان عناصر کے فریب میں جو بیرونی اشاروں پر صوبے کو بدامنی، انتشار اور نفرت کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان دشمن قوتوں کے سہولت کار ہمیشہ رسوا ہوئے ہیں، جبکہ وطن سے وفاداری نبھانے والوں کو قوم ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔آج معرکہ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر ہم اپنے شہدائ، غازیوں اور ان تمام محب وطن قوتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی قربانیوں سے وطنِ عزیز کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ ہمیں یہ عہد دہرانا ہوگا کہ نظریہ پاکستان، قومی سلامتی، بلوچستان کے امن اور ملک کی سالمیت کے خلاف ہر سازش کا پوری قوت سے مقابلہ کریں گے،پاکستان قائم تھا، پاکستان قائم ہے، اور ان شاء اللہ پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔
