بلوچستان کے مسائل کا حل مکالمے، انصاف اور آئین کی بالادستی میں ہے، مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت بدامنی، بے یقینی، خوف اور مایوسی کی سنگین صورتحال سے دوچار ہے، جبکہ نوجوان نسل شدید ذہنی اضطراب اور عدم تحفظ کا شکار ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کے حل، امن کے قیام اور عوامی اعتماد کی بحالی کے بجائے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر میں مختلف عوامی اجتماعات سے خطاب، سیاسی و سماجی شخصیات، عمائدین اور مختلف وفود سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی اور حق دو تحریک نے ہمیشہ بلوچستان کے مسائل کے پرامن، آئینی اور سیاسی حل کی حمایت کی ہے اور امن و مفاہمت کے فروغ کے لیے متعدد قابل عمل تجاویز بھی پیش کی ہیں، تاہم ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے ایسے طرزِ عمل کو جاری رکھا گیا ہے جس سے عوام میں بے چینی اور بداعتمادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک سنگین انسانی، آئینی اور قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ نوجوانوں کے لاپتہ ہونے اور بعد ازاں ان کی لاشوں کے ملنے کے واقعات نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے ناقابل برداشت المیہ ہیں بلکہ پورے معاشرے میں خوف، غصے اور مایوسی کو جنم دیتے ہیں، جس سے امن اور قومی یکجہتی کی کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے۔
مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی شخص کو مخبری یا کسی اور الزام کی بنیاد پر قتل کرنا ماورائے آئین اور قانون قرار دیا جاتا ہے تو لاپتہ افراد کی لاشوں کا ملنا آخر کس آئین، قانون اور انصاف کے تقاضوں کے تحت درست سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ ہر شہری کو آئین کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے اور کسی بھی فرد کے ساتھ غیر قانونی یا غیر انسانی سلوک نہ کیا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت، جبر اور خوف کی فضا میں نہیں بلکہ مکالمے، انصاف، آئین کی بالادستی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور تمام متعلقہ حلقوں کو بلوچستان کے عوام کے احساسات کو سمجھتے ہوئے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو دیرپا امن، استحکام اور قومی یکجہتی کا باعث بنیں۔
امیر جماعت اسلامی بلوچستان نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اور شفاف اقدامات کیے جائیں، تمام ماورائے قانون کارروائیوں کا خاتمہ کیا جائے، متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے اور بلوچستان میں امن و ترقی کے لیے سنجیدہ قومی مکالمے کا آغاز کیا جائے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کے حقوق، امن، انصاف اور آئینی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ہر فورم پر عوام کی آواز بلند کرتی رہے گی۔

WhatsApp
Get Alert