کراچی میں بچوں کے چپس اور پاپڑ کے پیکٹوں میں کوکین کی سپلائی کا انکشاف

ڈرگ ڈیلر انمول پنکی کی گرفتاری کے باوجود نیٹ ورک سرگرم، گھروں اور ریسٹورنٹس میں ڈیلیوری جاری


کراچی(قدرت روزنامہ)کراچی میں منشیات فروشی کے ایک انتہائی انوکھے اور خطرناک طریقہ کار کا انکشاف ہوا ہے، جہاں بچوں کے چپس اور پاپڑ کے پیکٹوں میں کوکین چھپا کر سپلائی کی جا رہی ہے، پولیس کی جانب سے مبینہ نیٹ ورک کی سرغنہ انمول پنکی کو گرفتار کیے جانے کے باوجود یہ نیٹ ورک تاحال سرگرم ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی پولیس اور سویلین انٹیلی جنس ایجنسی نے ایک مشترکہ چھاپے کے دوران کلفٹن گارڈن کے ایک اپارٹمنٹ سے منشیات رکھنے اور غیر قانونی اسلحہ کے مقدمات میں مطلوب خاتون ملزمہ انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، تاہم تازہ ترین تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سرغنہ کی گرفتاری کے باوجود اس کا خطرناک نیٹ ورک اب بھی شہر میں بدستور کام کر رہا ہے۔
حالیہ تحقیقات اور رپورٹس سے یہ چونکا دینے والی معلومات سامنے آئی ہیں کہ ڈرگ ٹریفکنگ نیٹ ورکس نے پولیس سے بچنے کے لیے اپنے سپلائی کے طریقے یکسر تبدیل کردیئے ہیں، کراچی میں اب کوکین کو عام چپس اور پاپڑ کے پیکٹوں کے اندر چھپا کر منتقل کیا جا رہا ہے، یہ منشیات چپس کے پیکٹوں کی آڑ میں پوش علاقوں کے گھروں، بڑے بنگلوں اور معروف ریسٹورنٹس میں براہِ راست ڈیلیور کی جا رہی ہے۔
تحقیقاتی اداروں کے ہاتھ لگنے والی ایک مبینہ گفتگو کے دوران سپلائر نے گاہک کو واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ’میرا رائیڈر آپ کو چپس کے کئی پیکٹ ڈیلیور کرے گا، اور ان چپس کے پیکٹوں کے اندر ہی کوکین کا ایک الگ پیکٹ چھپا ہوا ہوگا‘، ذرائع کا کہنا ہے کہ پنکی نیٹ ورک کے ارکان نے گرفتاریوں سے بچنے اور پیسوں کی لین دین کو خفیہ رکھنے کے لیے مالیاتی طریقہ کار بھی بدل لیا ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ گاہکوں کو منشیات کی قیمت ادا کرنے کے لیے نئے اکاؤنٹ نمبرز فراہم کیے جا رہے ہیں، آن لائن ادائیگیوں کے لیے ون ٹائم اکاؤنٹس، OneZip اکاؤنٹس و دیگر ڈیجیٹل والٹس کی تفصیلات براہِ راست کسٹمرز کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کا سراغ نہ لگا سکیں، حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس نیٹ ورک کے بدلتے ہوئے حربوں اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر رہے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert