اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشہ اقبال کا لائسنس کینسل کرنے کیلئے پنجاب بار کونسل میں درخواست دائر

رمشہ اقبال آسٹریلیا کی ایک کمپنی میں تین سال تک آفس مینیجر کے طور پر مستقل نوکری کرتی رہی ہیں جو کہ لیگل پریکٹشنر اینڈ بار کونسل ایکٹ کی شدید خلاف ورزی ہے؛ درخواست میں مؤقف


لاہور(قدرت روزنامہ)پنجاب بار کونسل لاہور میں ادکارہ مومنہ اقبال کی بہن وکیل رمشا اقبال کے خلاف قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی پر انضباطی کارروائی کے لیے درخواست دائر کر دی گئی، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے قانون کی پریکٹس کا فعال لائسنس برقرار رکھتے ہوئے ایک غیر ملکی کمپنی میں فل ٹائم تنخواہ دار ملازمت اختیار کر رکھی تھی، جو کہ وکلاء کے ضابطہ اخلاق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب بار کونسل لاہور کی ڈسپلنری کمیٹی کے چیئرمین کو ایک باقاعدہ شکایت موصول ہوئی ہے جس میں ایڈووکیٹ رمشا اقبال پر پیشہ ورانہ مس کنڈکٹ کا الزام عائد کیا گیا ہے، یہ شکایت ہائی کورٹ کے وکیل چوہدری آصف ولی کی جانب سے باقاعدہ طور پر دائر کی گئی ہے، درخواست پنجاب بار کونسل میں آج ہی کے دن یعنی 08 جون 2026ء کو جمع کرائی گئی ہے، جس پر ڈائری نمبر 3378 درج ہے۔
شکایت کے متن میں دستاویزی شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے رمشا ایڈووکیٹ کے خلاف الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ انہوں نے مارچ 2023ء سے اپریل 2026ء تک آسٹریلیا کی ایک کمپنی میں بطور آفس مینیجر کُل وقتی تنخواہ دار بنیادوں پر خدمات سرانجام دیں، اس طویل ملازمت کے دوران انہوں نے پنجاب بار کونسل کو اس حوالے سے نہ تو کوئی پیشگی اطلاع دی اور نہ ہی قانون کے مطابق اپنا وکالت کا لائسنس معطل کروایا، وہ مسلسل خود کو ایک فعال اینرولڈ ایڈووکیٹ کے طور پر پیش کرتی رہیں۔


درخواست گزار کا کہنا ہے کہ رمشا اقبال کی ملازمت سے متعلقہ دستاویزات اور ان کے بینک اکاؤنٹ میں تنخواہ کی منتقلی کی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ موجود ہے، جو پہلی نظر میں قوانین کی دانستہ خلاف ورزی کو ثابت کرتا ہے، پنجاب لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل رولز 2023 کے رول اور متعلقہ ضابطہ اخلاق کے تحت کوئی بھی فعال وکیل پنجاب بار کونسل کو مطلع کیے اور اپنا لائسنس معطل کروائے بغیر کسی بھی قسم کے کاروبار، تجارت، سروس یا کُل وقتی ملازمت کا حصہ نہیں بن سکتا، یہ شرط وکالت کے پیشے کی آزادی، دیانت اور ڈسپلن کو برقرار رکھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
چوہدری آصف ولی ایڈووکیٹ نے پنجاب بار کونسل سے استدعا کی ہے کہ اس شکایت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مس رمشا ایڈووکیٹ کے خلاف انضباطی کارروائی شروع کی جائے، باقاعدہ انکوائری کے بعد قانون کے مطابق سخت سزا تجویز کی جائے، جس میں ان کا وکالت کا لائسنس معطل یا مستقل طور پر منسوخ کرنا شامل ہو۔

WhatsApp
Get Alert