بلوچستان کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک: آبادی کے بجائے رقبے پر بجٹ نہ ملا تو 100 سال تک ترقی خواب رہے گی، عبدالغفور حیدری
وفاق کی روایتی ناانصافی پر جے یو آئی کی کڑی تنقید: ترقیاتی منصوبوں میں زمینی حقائق کو نظر انداز کرنے کا الزام

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور سینئر پارلیمنٹرین مولانا عبدالغفور حیدری نے “یو این اے” نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وفاقی بجٹ اور بلوچستان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کی جانب سے بلوچستان کو بجٹ کی فراہمی آبادی کے بجائے رقبے کے لحاظ سے ہونی چاہیے۔ انہوں نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک اس ملک کے سب سے بڑے صوبے کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہاں پسماندگی اور احساسِ محرومی نے جنم لیا ہے۔سیکرٹری جنرل جے یو آئی نے ترقیاتی منصوبوں کے طریقہ کار اور بجٹ کی تقسیم پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ ترقیاتی کام اور فلاحی منصوبے لوگوں کے چہروں کو دیکھ کر نہیں بلکہ زمین پر کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے زمینی حقائق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنی ہیں، واٹر سپلائی کی لائنیں بچھانی ہیں، دور دراز علاقوں تک سڑکیں پہنچانی ہیں، بجلی کے پول کھڑے کرنے ہیں یا گیس جیسی بنیادی ضرورت کسی بھی پسماندہ علاقے کو فراہم کرنی ہے، تو اس کے لیے زمین پر ہی فنڈز کا استعمال اور کام کرنا پڑتا ہے کیونکہ بلوچستان کا رقبہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں بے پناہ وسیع ہے۔مولانا عبدالغفور حیدری نے وفاقی حکومت کو سخت الفاظ میں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر رقبے اور زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کر کے بلوچستان کے ساتھ اسی روایتی انداز سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا، جس طرح ماضی میں کیا گیا اور اب بھی دہرایا جا رہا ہے، تو پھر بلوچستان کے عوام اگلے 100 سال تک بھی ترقی کا خواب نہ دیکھیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاق اپنے رویے پر نظرثانی کرے اور بلوچستان کے وسیع رقبے اور بکھری ہوئی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی ترقیاتی پیکیج اور منصفانہ بجٹ مختص کرے، ورنہ صوبے کی محرومیاں دور کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
