وفاقی جمہوری ریاست اب سیکیورٹی اسٹیٹ بن چکی، بلوچستان میں لاچارگی اور عدم تحفظ عروج پر ہے: ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ
پی ڈی ایم جماعتوں کا جمہوری اقدار پر سمجھوتہ، فارم 47 کی غیر نمائندہ اسمبلیاں بحران حل نہیں کر سکتیں: نیشنل پارٹی کا تعزیتی ریفرنس

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پارٹی کے رہنما اور سابق رکن بلوچستان اسمبلی شہید ہنیڈری مسیح بلوچ کی برسی کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں لاچارگی، بدامنی اور عدم تحفظ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے، وفاقی بجٹ میں بلوچستان کے لیے کچھ نہیں رکھا گیا حالانکہ صوبے کے وسائل سے وفاقی نظام چل رہا ہے. انہوں نے کہا کہ ملک کو آئین کے مطابق وفاقی جمہوری ریاست کے بجائے عملا سکیورٹی اسٹیٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں پارلیمنٹ بے اختیار، عدلیہ محدود اور میڈیا دبا کا شکار ہے. ریفرنس سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی، صوبائی صدر اسلم بلوچ، ضلعی صدر حاجی عطا محمد بنگلزئی، رکن بلوچستان اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ، چیئرمین بوئیر صالح بلوچ، چیئرمین محراب بلوچ، انیل غوری اور سونیا خرم نے بھی خطاب کیا جبکہ نظامت کے فرائض ریاض زہری نے انجام دیئے.ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وفاقی بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے مسترد کیا اور کہا کہ شہید ہنیڈری مسیح بلوچ ایک نظریاتی سیاسی کارکن تھے جنہوں نے آخری دم تک قومی اور جمہوری جدوجہد سے وابستگی برقرار رکھی. انہوں نے کوئٹہ میں آصف نامی شخص کی جانب سے اہل خانہ کے قتل و خودکشی اور ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکنے کے واقعات کو سنگین سماجی المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین سمیت عام شہری شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم جماعتیں سمجھوتوں کا شکار ہو کر جمہوری اقدار سے روگردانی کرچکی ہیں اور بلوچستان میں طاقت کے استعمال سے حالات مزید خراب ہو رہے ہیں. انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل پارٹی گرینڈ الائنس کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے، لہذا حکومت ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کرے. تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے بھی شہید رہنما کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ عوام کے ووٹ کا حق سلب کرکے فارم 47 کی غیر نمائندہ اسمبلیاں تشکیل دی گئی ہیں، جو ملک کو بحرانوں سے نہیں نکال سکتیں. انہوں نے کہا کہ ملک کے مسائل کا حل حقیقی جمہوریت، آئین کی بالادستی اور صوبوں کو ان کے آئینی حقوق دینے میں مضمر ہے.
