سہیل وڑائچ نے ریٹائرمنٹ کے مشورے پر محسن نقوی کو جواب دے دیا


لاہور (قدرت روزنامہ)سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ریٹائرمنٹ کا مشورہ دیئے جانے پر اپنا ردعمل دے دیا۔ جنگ اخبار کیلئے اپنے کالم میں انہوں نے لکھا کہ ایک مخلص، مشفق اور مہربان دوست نے میری بڑھتی عمر پر طنز کرتے ہوئے مجھے ریٹائرمنٹ کا مشورہ دیا ہے، ان کے مشورے مجھے ہمیشہ عزیز رہے ہیں اور مجھے ان کے مشورے پر عمل کرنے میں کوئی تردد بھی نہیں، صحافی کی نوکری کوئی وزارت کی طرح پکی تو ہوتی نہیں، ہوائی روزی ہے خدائے پاک تو کونے کھدروں میں پڑوں کو بھی دیتا ہے، بوڑھے صحافی پر بھی مہربانی فرمائے گا۔
سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ تاریخ کا سبق مگر یہ ہے کہ وزارتیں اور حکومتیں عارضی ہیں اور آتی جاتی رہتی ہیں، گزشتہ چار دہائیوں میں کئی ایسے آئے جو تکبر اور غرور کی تجسیم تھے اور انہیں یہ زعم بھی تھا کہ ہم کبھی نہیں جائیں گے مگر سب کو جانا پڑا، صحافت نے رہنا ہے اور وزارت نے جانا ہے الفاظ محفوظ رہیں گے اور اقتدار ختم ہوجائیں گے، مجھے یقینِ واثق ہے کہ میرے محسن کو اقتدار سے کہیں زیادہ اقدار عزیز ہیں۔
سینئر تجزیہ کار نے مزید لکھا کہ اسی لئے میری دعا ہے کہ خدا انہیں مزید ترقی، مزید طاقت، مزید اختیاراور اس سے بڑا عہدہ دے تاکہ وہ مزید محنت اور خلوص کے ساتھ عوام کی خدمت کریں،وہ میرے خلاف یا میرے بارے میں جوبھی کہتے رہیں میں ہمیشہ سے اپنے دوستوں کیلئے دعاگو ہوں اوررہوں گا، وہ مجھ سے قطع تعلق کرلیں ناراض ہوں یا سرعام میری تردید کریں، پھر بھی میں ان کے اخلاص کے بوجھ تلے دبا ہونے کےباعث پلٹ کر انہیں جواب نہیں دوں گا ، تاہم پہلے بھی ان کی مرضی کیخلاف زبردستی مشورے دینے کی ہمیشہ سے کوشش کرتا رہا ہوں، اب تحریر کے ذریعے ایساکرنے پر مجبور ہوں۔

WhatsApp
Get Alert