سپریم کورٹ نے خلع کے بعد خاتون کو مقدمہ بازی میں پھنسانا عزت نفس و خود مختاری پر حملہ قرار دیدیا


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)سپریم کورٹ نے خلع کے بعد خاتون کو مقدمہ بازی میں پھنسانا عزتِ نفس اور خود مختاری پر شدید حملہ قرار دیتے ہوئے سابق شوہر پر 5 لاکھ روپے جرمانہ کرتے ہوئے اسے سابقہ اہلیہ کو دینے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سابق شوہر کی اپیل خارج کرتے ہوئے 9 صفحات پر مشتمل حکمنامہ جاری کردیا۔
حکمنامے میں عدالتی عمل کا غلط استعمال کرنے والے سابق شوہر پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے کہا گیا کہ سابق شوہر 30 دن کے اندر جرمانے کی رقم اپنی سابقہ اہلیہ کو ادا کرنے کا پابند ہوگا، جرمانہ عدم ادائیگی کی صورت میں فیملی کورٹ کے ذریعے وصول کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ شوہر نے اہلیہ پر بد کرداری کا الزام لگایا، مقصد خاتون کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا، قانونی طور پر خلع لینے اور عدت مکمل کرنے کے بعد خاتون کو دوسری شادی کا مکمل حق ہے، خلع کے بعد دوسری شادی کیلئے خاتون کو سابق شوہر سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں، جھوٹے فوجداری مقدمات اور کردار کشی کا مقصد صرف دباؤ ڈالنا ہوتا ہے۔
حکمنامے میں کہا گیا کہ خواتین کیخلاف مقدمہ بازی کو ہراساں کرنے یا تذلیل کیلئے بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جاسکتا، ملک بھر کی عدالتیں نکاح کے تنازعات میں قانون کے غلط استعمال پر ہوشیار رہیں، بدنیتی پر مبنی مقدمہ بازی کو روکنا عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، سائلین کی عزتِ نفس کا تحفظ کرنا عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
2014 میں پشاور کی فیملی کورٹ نے حق مہر سے دستبرداری کے عوض خاتون کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کی تھی، درخواست گزار سابق شوہر پر اہلیہ پر تشدد، گھر سے نکالنے اور 4 سالہ بیٹی کو ماں سے جدا رکھنے کے الزامات تھے، فیملی کورٹ نے کمسن بچی کی تحویل ماں کے سپرد کر دی تھی، خلع اور عدت کی تکمیل کے بعد خاتون نے دوسرا نکاح کیا تو سابق شوہر نے مقدمہ بازی شروع کر دی، سابق شوہر نے اندراجِ مقدمہ کی درخواست دی، خاتون کے نکاح میں ہونے کا مؤقف اپنایا۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ مجسٹریٹ کے سامنے الزامات پہلے ہی مسترد کیے جا چکے ہیں، اندراجِ مقدمہ کی درخواست خارج ہونے پر سابق شوہر نے ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

WhatsApp
Get Alert