ایران میں رجیم چینج ہوچکی، نئی قیادت آگئی جو اسمارٹ ہے: صدر ٹرمپ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر امن معاہدے پر پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخی معاہدے میں پاکستان کا بڑا ہاتھ ہے، پاکستان اور قطر نے مذاکرات کے لیے بہت کام کیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا ایران میں رجیم چینج ہوچکی، نئی قیادت آگئی جو اسمارٹ ہے، ایران کے ساتھ ڈیل ہوگئی، جس کے بعد آبنائے ہرمز کھلنے جارہی ہے، اگر ڈیل نہ کرتے تو آبنائے ہرمز نہ کھلتی اور بمباری ہفتوں یا مہینوں چلتی رہتی۔ انہوں نے اسرائیل کو بے وقوف قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو سے لبنان کے معاملے پراختلاف ہے، اسرائیل کو چاہیے حزب اللہ سے بہتر برتاؤ کرے۔
بدھ کو فرانس میں جی-7 ممالک کے سربراہان کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوتا تو بمباری ہفتوں اور مہینوں تک جاری رہ سکتی تھی اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ جی سیون ممالک سمیت سب نے جنگ رکوانے اور معاہدے کو کامیاب بنانے کی بات کی۔
.@POTUS: "As I expressed to the world leaders here this week, it's my hope that the peace agreement will be the beginning of a much larger deal all across the Middle East. We're very close." pic.twitter.com/GUZb0UHXVC
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) June 17, 2026
صدر ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کھلنے جارہی ہے جب کہ تیل کی قیمتیں بھی گر رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں رجیم چینج ہوچکی ہے اور اب وہاں ایک زیادہ سمجھدار قیادت سامنے آئی ہے جو معاملات کو دانشمندی سے آگے بڑھا رہی ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایرانی قیادت اب سمجھداری کا مظاہرہ کر رہی ہے اور امید ہے کہ ایران مستقبل میں ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے جوہری مواد کا سراغ لگایا جائے گا جب کہ ایرانی جوہری تنصیبات کی سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی بھی جاری ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے دوران ایران کو تقریباً 2 ٹریلین ڈالر کا نقصان پہنچایا گیا اور اب ایران کو تعمیر نو کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا معاہدے کے بدلے ایران کو کوئی رقم یا فنڈ فراہم نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ملک یا ادارہ ایران میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے تو امریکا کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔
اسرائیل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو مایوس ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لبنان کے معاملے پر بھی ان کا نیتن یاہو سے اختلاف ہے۔ ٹرمپ کے مطابق معاہدے کی ایک کاپی اسرائیل کو بھی بھجوا دی گئی ہے، ایران کے ساتھ ڈیل پر دستخط یا کل یا پرسوں ہوجائیں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ حزب اللہ کے ساتھ بہتر برتاؤ کرے، اسرائیل لبنان کے معاملے پر حکمت عملی بہتر کرے۔ نیوز کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک ”بے وقوف قوم“ نے کہا کہ ایران پر بمباری جاری رکھی جائے لیکن اگر بمباری کا سلسلہ چلتا رہتا تو کچھ بھی باقی نہ بچتا۔
ٹرمپ نے دو روز قبل بیروت پر ہونے والے اسرائیلی حملے کو غیرضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا یہ بھی نہیں چاہ سکتی کہ 91 ملین افراد کو بھوک کے ہاتھوں مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے جب کہ صحرا میں 12 ڈرون گرنے پر بیروت پر بمباری مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران اتحادی ممالک کے ساتھ ایران معاہدے پر تفصیلی غور کیا گیا اور جی سیون ممالک اس پیش رفت پر بہت خوش ہیں۔ ان کے مطابق دنیا کو معاشی تباہی سے بچانے کے لیے یہ معاہدہ کیا گیا۔
پاکستان کے کردار کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور قطر کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قطر نے مذاکرات کے لیے بہترین کام کیا اور تاریخی معاہدے میں پاکستان کا بڑا ہاتھ ہے۔ ٹرمپ کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم نے انہیں بتایا تھا کہ ایک بڑا کام ہونے جا رہا ہے۔
نیوز کانفرنس کے دوران امریکی صدر نے سابق ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سلیمانی ایران کا ”باس“ تھا، وہ ایک ذہین شخص تھا اور وہ اس کا احترام کرتے ہیں، سلیمانی ”روڈ سائیڈ بم کا باپ“ تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا نے ایک ماہ تک تیاری کی، انہیں معلوم تھا کہ سلیمانی کمرشل طیارے میں سفر کر رہا ہے، جس کے بعد انہوں نے اپنے جنرل کو کارروائی کے لیے گرین سگنل دیا۔
صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور قیادت ختم ہوچکی ہے جب کہ ایران کے پاس اب کچھ نہیں بچا تاہم انہوں نے ایرانی عوام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی بہت ذہین لوگ ہیں اور اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی 300 ارب ڈالرز منجمد رقم کی واپسی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس ایران کی بہت زیادہ رقم موجود ہے اور یہ منجمد شدہ رقم دراصل ایران کی اپنی رقم ہے، جہاں تک میرا خیال ہے کہ ہمیں کسی نہ کسی وقت یہ رقم واپس تو کرنا ہوگی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا یہ رقم واپس نہ کرے تو پھر کون ڈالر میں سرمایہ کاری کرے گا جب کہ یہ بھی سوال ہے کہ آخر امریکا ایران کی رقم اپنے پاس کیوں رکھے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے، اس لیے اس راستے کی صورتحال پر عالمی منڈیاں مسلسل نظر رکھتی ہیں۔
جی 7 اجلاس: صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم کے درمیان ملاقات
اس سے قبل جی 7 اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم مودی کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں ایران کے ساتھ حالیہ معاہدے، مشرق وسطیٰ کی صورت حال، عالمی تجارت، توانائی کی سلامتی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے نئی امید پیدا کرتی ہے۔
"How long do you expect @pulte to be Acting DNI?"@POTUS: "As long as it takes to get everybody else approved… all of a sudden it was like a rush act by the Democrats… I'm not going to sign FISA unless [SAVE America Act] is done." pic.twitter.com/pXIKLUe8do
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) June 17, 2026
نریندر مودی نے کہا کہ بھارت ہمیشہ سفارتی حل، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن خاتمے کا حامی رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار کرے گا۔
بھارتی وزیراعظم نے اس موقع پر آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ کو کھلا رکھنا عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت مسلسل آزادیٔ جہاز رانی کی حمایت کرتا آیا ہے کیونکہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
.@POTUS meets with India's Prime Minister Narendra Modi at the G7 summit in France: "He's spending a lot of money in the United States, so we appreciate that—jobs. I just want to say he's been my friend for a long time now, and we've always had a great relationship." pic.twitter.com/GxaBeS5tGJ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) June 17, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بین الاقوامی جہاز رانی کو معمول پر لانے کی جانب اہم قدم ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ عالمی توانائی کی رسد اور تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے سمندری راستوں کا محفوظ اور کھلا رہنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں بھارتی آئل ٹینکر کو اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور ہدایات کو نظرانداز کرنے پر امریکی فوج نے نشنہ بنایا تھا جس میں 3 بھارتی ملاح مارے گئے تھے۔
