بلوچستان ‘ حادثات و واقعات سی ٹی ڈی اہلکار شہید، 2 ڈاکو ہلاک، 2 گرفتار‘فائرنگ سے دو افراد قتل،پٹرول پمپ پر حملہ،

کوئٹہ / اندرون بلوچستان (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور پولیس مقابلوں کے دوران سی ٹی ڈی اہلکار سمیت 3 افراد جاں بحق اور 2 مبینہ ڈاکو ہلاک ہو گئے، جبکہ نصیر آباد میں پولیس نے مقابلے کے بعد 2 انتہائی مطلوب ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق صوبے بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران درج ذیل واقعات پیش آئے:
نوشکی: سی ٹی ڈی اہلکار کی شہادت
نوشکی کے علاقے احمد وال چوک پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے پولیس اہلکار ماما افضل محمد حسنی کو شہید کر دیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس نے نعش قبضے میں لے کر ہسپتال پہنچائی اور ضروری قانونی کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی ہے۔ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔
کوئٹہ: مبینہ پولیس مقابلے میں 2 ڈاکو ہلاک
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ٹیکسی اسٹینڈ کے قریب پولیس اور مسلح ملزمان کے درمیان اچانک فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں دو مبینہ ڈاکو موقع پر ہی مارے گئے۔ ہلاک ہونے والے دونوں افراد کی لاشوں کو قانونی و طبی کارروائی کے لیے فوری طور پر سول اسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق مارے جانے والے افراد کی شناخت اور ان کا مجرمانہ ریکارڈ معلوم کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور واقعے کے دیگر پہلوؤں پر بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
نصیر آباد: پولیس مقابلے میں 2 بدنام زمانہ ڈکیت گرفتار
ڈیرہ مراد جمالی کے قریب مین قومی شاہراہ پر لوٹ مار کی واردات کے دوران پولیس موقع پر پہنچ گئی، جس پر ملزمان نے فائرنگ کر دی اور فرار ہونے لگے۔ ایس ایچ او سٹی رؤف جمالی، ایس ایچ او نوتال، ایس ایچ او صدر ذوالفقار پندرانی اور ڈی ایس پی شمن علی سولنگی کی قیادت میں بھاری نفری نے تعاقب کرتے ہوئے تمبو کے علاقے منجھو شوری کے قریب ملزمان کا گھیراؤ کر لیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد سندھ اور بلوچستان پولیس کو قتل، اغوا اور ڈکیتی کی درجنوں وارداتوں میں مطلوب دو بدنام زمانہ ڈکیتوں (مبارک مغیری اور نواز جتک) کو زخمی حالت میں گرفتار کر کے ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ملزمان کے قبضے سے دو کلاشنکوفیں، ٹی ٹی پسٹل، گولیاں اور مسروقہ موٹر سائیکل برآمد کر لی گئی ہے۔ ڈی آئی جی پولیس نصیرآباد نے کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کے لیے نقد انعامات اور تعریفی اسناد جاری کی ہیں۔
پنجگور اور تربت: فائرنگ کے واقعات میں 2 افراد قتل
پنجگور کے علاقے چکول کے قریب سے پولیس کو ایک نامعلوم شخص کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی ہے جسے قریبی فاصلے سے بے دردی سے قتل کیا گیا ہے۔ لاش کو شناخت کے لیے ٹیچنگ ہسپتال پنجگور منتقل کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ضلع کیچ (تربت) کے علاقے دشت (ہرانی بیٹ اچانک بازار) میں نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر کے حمل ولد حمید نامی شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور باآسانی فرار ہو گئے۔ قتل کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں، مقامی انتظامیہ اور پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔
جعفرآباد: پٹرول پمپ پر ڈنڈا برداروں کا حملہ
جعفرآباد میں ڈیرہ اللہ یار پولیس تھانے کی حدود میں واقع مقامی پٹرول پمپ پر درجنوں ڈنڈا بردار افراد نے حملہ کر دیا۔ ملزمان نے توڑ پھوڑ کے بعد ڈنڈوں کے وار کر کے محمد یعقوب اور غلام علی راہوجہ نامی دو افراد کو شدید زخمی کر دیا اور فرار ہو گئے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو سول اسپتال ڈیرہ اللہ یار منتقل کیا، جہاں سے ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں مزید علاج کے لیے لاڑکانہ ریفر کر دیا گیا۔ پولیس نے پٹرول پمپ کے مالک کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔
