بلوچستان ہائیکورٹ کی جانب سے ٹینڈرز نے منصف کی شفافیت پر سوالات اٹھا دئیے،ہائی کورٹ کس قانون کے تحت ٹینڈرز طلب کر رہا ہے؟ منیر احمد خان کاکڑ


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)پاکستان بار کونسل کے ممبر منیر احمد خان کاکڑ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں عدالتی نظام سے منسلک ترقیاتی منصوبوں کے بارے جاری شدہ ٹینڈرز کس قانون کے تحت طلب کیے گئے ، خصوصاً سولرائزیشن پروجیکٹ کے ٹینڈرز اور ان کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار نے سنگین سوالات اٹھائے ہیں کیا کوئی قانون موجود ہے کہ عدالت انصاف کی بجائے اب ٹینڈرز بھی خود جاری کرتے رہے ایک طرف چیف جسٹس بلوچستان کا ٹھیکیدار لفظ سے بیزاری اور دوسری طرف ٹینڈرز جاری کرنا سوالیہ نشان ہے، حکومتی امور میں مداخلت اور انصاف کی بجائے منصف کا اب ٹینڈرز جاری کرنا اپنے آپ میں ایک سوال ہے؟ پاکستان بار کونسل کے رکن منیر احمد خان کاکڑ نے اس حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض عدالتی ترقیاتی منصوبوں میں حالیہ ٹینڈرز کے عمل، کنٹریکٹ کی الاٹمنٹ اور قواعد و ضوابط کی پاسداری پر سوالات موجود ہیں۔ اور اب عدالت اور ججز بھی کرپشن و کمیشن کے اس حمام کا حصہ بننا چاہتے ہیں ؟ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ آیا بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (BPPRA) کے قواعد و ضوابط کے مطابق تمام مراحل مکمل کیے گئے یا نہیں اور کیا منصوبوں کی الاٹمنٹ میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا ممکن ہو سکے گا جو خود ٹھیکیدار لفظ سے بیزاری کا اظہار کرکے وکلاء برادری سے متعلق توہین آمیز رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں کیا یہ ٹینڈرز حکومت کے متعلقہ محکموں کا کام نہیں دوسرا اصل سوال عدالت کے پاس وہ کونسے ماہرین ہیں جو کام کے نوعیت پلانینگ ڈیزائن، کوالٹی اور خاص کر معیار کا تعین کریں گے یا یہاں صرف کرپشن اور ایکسیپٹنس کو پروان چڑھانے کیلئے منصف کی جانب سے انصاف کی بجائے ٹھیکیداری نظام سے منسلک ہو رہے ہیں، انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ عدالتی اداروں کی بنیادی ذمہ داری انصاف کی فراہمی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں میں شمولیت کے نتیجے میں ادارہ جاتی توجہ اور شفافیت کے معیار پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اور اب ججز اور عدالت ایک بزنس کارٹیل بننے کی مذموم کوشش کی جاری جس سے انصاف کے ادارے تباہ ھونگے۔

WhatsApp
Get Alert