بلوچستان میں حکومتی رٹ صرف ریڈ زون تک محدود، عوام تحفظ کے لیے سڑکوں پر ہیں، حکومت مستعفی ہو، جمعیت علماء اسلام


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان اس وقت تاریخ کے بدترین امن و امان کے بحران، حکومتی بے حسی، انتظامی نااہلی اور ریاستی عملداری کے شدید فقدان کا شکار ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں عوام بیک وقت احتجاجی دھرنے دینے پر مجبور ہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ وہ نہ سڑکیں مانگ رہے ہیں، نہ ترقیاتی منصوبے، نہ روزگار اور نہ ہی سیاسی مراعات، بلکہ صرف اپنے جان و مال، عزت و آبرو اور اپنے بچوں کی محفوظ زندگی کی ضمانت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ زیارت کا افسوسناک واقعہ، تاجر ہاشم نورزئی کا بہیمانہ قتل، ہنہ وڑک کا سانحہ، لورالائی میں بڑھتی ہوئی اغوا گردی، کراچی سے آئے ہوئے مہمان خاندان کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور صوبے بھر میں قتل و غارت، اغوا، بھتہ خوری، شاہراہوں پر عدم تحفظ اور قانون شکنی کے پے درپے واقعات اس حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ موجودہ حکومت مکمل طور پر عوام کا اعتماد کھو چکی ہے اور حکومتی رٹ عملی طور پر ختم ہو کر صرف ریڈ زون کی چار دیواری تک محدود رہ گئی ہے۔ حکمران عوام کے جان و مال کے تحفظ کے بجائے محض نمائشی بیانات، دعوؤں، فوٹو سیشنز اور بے نتیجہ اجلاسوں میں مصروف ہیں جبکہ صوبہ عملاً جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والا یہ حکومتی سیٹ اپ اپنی مکمل ناکامی کا اعتراف کرنے کے لیے مزید کتنی لاشوں کا منتظر ہے؟ جب حکومت شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، قانون کی بالادستی اور ریاستی عملداری برقرار رکھنے میں ناکام ہو جائے تو اسے اقتدار پر براجمان رہنے کا کوئی اخلاقی، آئینی، سیاسی اور عوامی جواز حاصل نہیں رہتا۔ ہاشم نورزئی کے بہیمانہ قتل نے بلوچستان کے تاجروں، صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کو یہ انتہائی خطرناک پیغام دیا ہے کہ اگر صوبے میں سرمایہ لگانے والا، سینکڑوں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ بننے والا شخص بھی محفوظ نہیں تو پھر کون بلوچستان میں سرمایہ کاری کرے گا؟ موجودہ حالات نے نہ صرف معیشت بلکہ عوام کے ریاست پر اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ آج عوام حکومت سے ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات نہیں بلکہ زندہ رہنے کا حق مانگ رہے ہیں، ہر ماں اپنے بیٹے، ہر باپ اپنے بچوں اور ہر خاندان اپنی سلامتی کے لیے پریشان ہے۔ اگر حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی بنیادی آئینی ذمہ داری بھی ادا نہیں کر سکتی تو اسے اقتدار سے چمٹے رہنے کے بجائے فوری طور پر مستعفی ہو کر آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کی راہ ہموار کرنی چاہیے، کیونکہ مزید تاخیر صرف عوامی اضطراب، بدامنی اور لاشوں میں اضافے کا سبب بنے گی، جس کی مکمل سیاسی، آئینی اور اخلاقی ذمہ داری موجودہ حکمرانوں پر عائد ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert