پشتون بلوچ مشترکہ دو قومی صوبہ بدترین بدامنی، خوف اور بے یقینی کا شکار، زمینی حقائق حکومتی دعوؤں کی نفی کر رہے ہیں فارم 47 کی بنیاد پر قائم نام نہاد حکومت کے خوشامدانہ بیانات عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں : پشتونخواملی عوامی پارٹی
حکومتی رٹ صرف دعووں تک محدود، شاہراہیں غیر محفوظ اور جرائم پیشہ عناصر قانون کی گرفت سے باہر ہیں

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کے ضلع کمیٹی کا اجلاس پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر وضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا کے زیر صدارت پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کی سیاسی تنظیمی امور،کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور رپورٹس پیش کی گئی۔ تحصیل صدر کی رپورٹ تحصیل سیکرٹری نعیم پیر علیزئی، تحصیل کچلاغ رپورٹ تحصیل سیکرٹری ملک نادر کاکڑ اور تحصیل سٹی کی رپورٹ تحصیل سینئر معاون سیکرٹری شکور افغان نے پیش کی۔ اجلاس میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان، صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان، صوبائی ایگزیکٹیوز صورت خان کاکڑ، سردار حیات میرزئی،اقبال خان بٹے زئی، حفیظ ترین، گل خلجی، ملک عمر کاکڑ نے شرکت کی۔ اجلاس میں پارٹی ضلع کوئٹہ میں تنظیم کو مزید منظم اور فعال بنانے کے حوالے سے ضلع ایگزیکٹیوز کے فیصلوں کی توثیق کی گئی اور پارٹی کی جاری تنظیمی سرگرمیوں میں تمام ضلعی عہدیداروں کی شرکت کا لازمی قرار دیا گیا۔ اس سلسلے میں تحصیل سٹی کے 21علاقائی یونٹوں کے علیحدہ علیحدہ اجلاس منعقد ہوئے جبکہ دوسرے مرحلے میں تحصیل صدر کے ضلع ایگزیکٹیوز، ضلع کمیٹی، تحصیل ایگزیکٹیوز، علاقائی ایگزیکٹیوکے مشترکہ اجلاسوں کو انعقاد کیا جائے اور اس سلسلے میں پہلا اجلاس 2جولائی بروز جمعرات کو حاجی اللہ گل شمشوزئی کی رہائش گاہ پر صدر تحصیل سے منسلک 13علاقائی یونٹوں کا مشترکہ اجلاس شام ساڑھے چار بجے منعقد ہوگا۔ منعقدہ اجلاسوں میں پارٹی کے فیصلوں اور تنظیمی امور کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملدر آمد کیئے جائینگے۔تحصیل سیکرٹری وسینئرمعاونین اور تمام علاقائی یونٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے تنظیمی سیاسی سرگرمیوں اور اجلاسوں کے رپورٹ کی رجسٹرڈ کاپی اپنے ہمراہ لائیں گے۔ اجلاس سے پارٹی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا پشتون بلوچ مشترکہ دو قومی صوبہ آج بدترین بدامنی، خوف اور بے یقینی کی کیفیت سے دوچار ہے، زمینی حقائق حکومتی دعوؤں کی نفی کر رہے ہیں۔ کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں عوام کی جان، مال اور عزت محفوظ نہیں۔ عوام روزانہ جرائم، چوری، ڈکیتی، اغوا، قتل اور شاہراہوں پر عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات زرغون غر دلوانی سے 6افراد کو اغواء کیا گیا۔ کوئٹہ کے ہنہ اوڑک کلی ببری کا المناک واقعہ، کچلاغ، غبرگ، نوحصار اور دیگر علاقوں میں بڑھتی ہوئی بدامنی، اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی چشمہ میں نجی ہاؤسنگ اسکیم پر حملے کی اطلاعات عوام میں شدید تشویش پیدا کر رہی ہیں۔ اگر حکومت اپنی رٹ قائم ہونے کے دعوے کرتی ہے تو اسے عوام کے سامنے ان سوالات کے جواب دینے ہوں گے کہ شاہراہیں غیر محفوظ کیوں ہیں؟ عوامی املاک اور تعمیراتی منصوبے حملوں کی زد میں کیوں ہیں؟ جرائم پیشہ عناصر قانون کی گرفت سے باہر کیوں ہیں؟ اور متاثرہ شہری انصاف کے منتظر کیوں ہیں؟آج تک کسی بھی واقعہ کا کوئی بھی ملزم عوام کے سامنے اور نہ ہی قانون کے کٹہرے میں لایا گیا ہے۔ جبکہ کچلاغ میں شہریوں سے گن پوائنٹ پر سرعام دن دہاڑے موٹر سائیکلیں چھین کر بعد میں پیسے لیئے جاتے ہیں،شہریوں کو زدکوب، فائرنگ، زخمی کیا جاتا ہے لیکن پولیس ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ ہزارگنجی میں مکینوں نے چوروں کو رنگے ہاتھوں اسلحہ سمیت گرفتار کیا لیکن پولیس ایف آئی آر کرنے میں ہچکچارہی تھی اور عوامی نمائندوں کے اسرار اور احتجاج پر ایف آئی آر درج کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ فارم 47 کی بنیاد پر قائم نام نہاد حکومت کے ترجمانوں کے خوشامدانہ بیانات عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔ حقائق کو بیانات سے نہیں بلکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، قانون کی عملداری اور مجرموں کے خلاف مؤثر کارروائی سے ثابت کیا جاتا ہے۔اور امن صرف انصاف، قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کے حقیقی تحفظ سے قائم ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی ہر قسم کے حالات میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور ہم اپنے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اور ہر قسم کی مایوسی، خوف اور انتشار کو مسترد کرتے ہوئے متحد ہوں۔اپنے قومی، سیاسی، جمہوری اور آئینی حقوق کے دفاع کے لیے منظم جدوجہد کریں اور اپنے وطن، اپنے وسائل اور اپنے مستقبل کے تحفظ کی ذمہ داری میں پشتونخواملی عوامی پارٹی کا بھرپور ساتھ دیں کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ منظم عوامی قوت ہی ظلم، نااہلی اور استحصالی پالیسیوں کا مؤثر جواب رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم اس وقت غیر موثر بنتا جارہا ہے اس لیے اس پر غیر ضروری بحث، ذاتی حملوں اور بے مقصد مناظروں سے مکمل اجتناب کریں اور اپنی توانائیاں عوامی رابطے، تنظیم سازی اور سیاسی جدوجہد پر صرف کریں۔صرف اپنے عظیم رہبر پارٹی چیئرمین ملی مشر محمود خان اچکزئی کے بیانیہ اور پارٹی پروگراموں، تنظیمی موقف کو سوشل میڈیا پر فروغ دیں۔
