حکومت بلوچستان کے آئینی حقوق کے تحفظ میں ناکام ؟ گیس سونے کی قیمت پر ؟ سوئی گیس کے نئے ہوشربا نرخ ہائیکورٹ میں چیلنج

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)سوئی گیس کمپنی کی جانب سے جاری کیے گئے نئے ریٹ شیڈول کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ یہ درخواست معروف قانون دان سید نزیر آغا ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں مقف اختیار کیا گیا ہے کہ گیس نرخوں کا نیا شیڈول آئینِ پاکستان سے متصادم ہے اور بلوچستان کے عوام کے آئینی حقوق کو متاثر کرتا ہے۔
درخواست گزار سید نزیر آغا ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عوام اس معاملے پر پریشان نہ ہوں، کیونکہ نئے ریٹ شیڈول کو قانونی اور آئینی بنیادوں پر عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور امید ہے کہ عدالت اس معاملے کا قانون کے مطابق جائزہ لے گی۔ درخواست میں مقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 158 کے مطابق جس صوبے سے قدرتی گیس پیدا ہوتی ہے، اس صوبے کو اس گیس کے استعمال پر ترجیحی حق حاصل ہے۔
چونکہ ملک کی قدرتی گیس کا بڑا حصہ بلوچستان سے حاصل کیا جاتا ہے، اس لیے صوبے کے عوام کو آئینی طور پر ترجیح دی جانی چاہیے، جبکہ موجودہ ریٹ شیڈول اس آئینی ضمانت کے منافی قرار دیا گیا ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ گیس کمپنی کا نیا ریٹ شیڈول آئین کے آرٹیکل 7، آرٹیکل 8 اور آرٹیکل 25 کی روح سے بھی متصادم ہے۔
درخواست گزار کے مطابق نئے نرخ عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہیں اور بنیادی آئینی حقوق سے ہم آہنگ نہیں۔ اس لیے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نئے ریٹ شیڈول کو کالعدم قرار دیا جائے یا اس پر عمل درآمد اس وقت تک روکا جائے جب تک درخواست پر حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا۔درخواست میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی جائے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے آئینی اور قانونی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے گیس نرخوں سے متعلق نئی پالیسی مرتب کریں، تاکہ صوبے کے صارفین پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ پڑے۔
بلوچستان ہائی کورٹ میں دائر اس آئینی درخواست پر جلد سماعت متوقع ہے، جس کے بعد عدالت ابتدائی دلائل سننے کے بعد آئندہ کارروائی کا تعین کرے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ نہ صرف گیس نرخوں بلکہ آئین کے آرٹیکل 158 کی تشریح اور قدرتی وسائل پر صوبوں کے حقوق کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے۔ عدالت کی جانب سے تاحال اس درخواست پر کوئی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا، اور نئے ریٹ شیڈول کی قانونی حیثیت سے متعلق حتمی فیصلہ عدالت کی سماعت اور حکم کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
