پولیس اہلکار پر تشدد کیس میں پی ٹی آئی رہنما کی ضمانت خارج، پولیس نے گرفتار کر لیا

ڈیرہ اسماعیل خان(قدرت روزنامہ) پولیس اہلکار پر مبینہ تشدد اور سرکاری امور میں مداخلت کرنے کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مقامی رہنما عدنان گنڈاپور کی عبوری ضمانت خارج ہونے کے بعد پولیس نے انہیں گرفتار کر کے تھانہ کینٹ منتقل کر دیا۔
ایڈیشنل سیشن جج خالد منصور نے مقدمے کی سماعت کے بعد عدنان گنڈاپور کی قبل از گرفتاری عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کا حکم جاری کیا۔
پولیس کے مطابق مقدمہ گزشتہ ماہ تھانہ کینٹ میں ٹریفک پولیس کے ٹکٹنگ افسر عبدالجبار کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، جس کے مطابق ٹریفک اہلکار نے ایک موٹرسائیکل کو مبینہ ٹریفک خلاف ورزی پر روکا تھا، جس پر عدنان گنڈاپور نے مبینہ طور پر ٹیلی فون کے ذریعے مداخلت کی کوشش کی۔

ڈیرہ اسماعیل خان (2 جولائی 2026): پولیس اہلکار پر مبینہ تشدد اور سرکاری امور میں مداخلت کرنے کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مقامی رہنما عدنان گنڈاپور کی عبوری ضمانت خارج ہونے کے بعد پولیس نے انہیں گرفتار کر کے تھانہ کینٹ منتقل کر دیا۔
پولیس کا مؤقف ہے کہ اہلکار کے قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے پر عدنان گنڈاپور چار سے پانچ نامعلوم ساتھیوں کے ہمراہ سفید رنگ کی ڈالہ گاڑی میں موقع پر پہنچے، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار کو تھپڑ مارا، اس کی وردی پھاڑ دی، موبائل فون توڑ دیا اور سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالی۔
عدالتی کارروائی کے دوران پی ٹی آئی کے کارکنوں اور وکلا کی بڑی تعداد عدالت کے باہر موجود رہی، جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ڈیرہ ضیاء الدین احمد بھی پولیس کی جانب سے مقدمے کی پیروی کیلیے عدالت میں موجود تھے۔
عدالت کی جانب سے عبوری ضمانت مسترد کیے جانے کے فوراً بعد تھانہ کینٹ پولیس نے عدنان گنڈاپور کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا، جہاں مقدمے میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
