ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ اور پی ایس ڈی پی میں پشتون بیلٹ کی نظراندازی؛ حکومتیں پشتون دشمنی پر اتر آئیں، پشتونخواملی عوامی پارٹی


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق فاٹا کے اضلاع اور صوبائی فاٹا ، مالاکنڈ ڈویژن اور اسی طرح برٹش بلوچستان چیف کمشنر صوبہ، ژوب ، لورالائی ، شیرانی ، قلعہ سیف اللہ ، موسیٰ خیل،بارکھان، دکی ، کوہلو ، ڈیرہ بگٹی ، نوشکی ، چاغی کو زمانوں سے ٹیکس استثنیٰ حاصل تھا اسے بیک جنبش قلم ختم کرنے کی کارروائی کو مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ برٹش بلوچستان (چیف کمشنر صوبے کے اضلاع میں نہ کوئی صنعت ، نہ کاروبارشروع کیا گیا ہے البتہ گزشتہ دو تین سالوں سے تجارت بند کرنے کی سرکاری روش نے صوبے کے باعزت روزگار کرنے والوں کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا ہے اور صرف یہی نہیں صوبے کے پشتون اضلاع وفاقی اور صوبائی پی ایس ڈی پی میں حصہ ایک چوتھائی سے بھی کم ہے ۔ ناانصافی ،نظر اندازی کی اس صورتحال میں ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ کرنا کھلی پشتون دشمنی کے سوا کچھ نہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بجٹ مینول اور بجٹ رولز ریگولیشن کو مکمل پائمال کرتے ہوئے من مانے بلاک ایلوکیشن رکھنے ، پیداواری مدات کو نظر انداز کرنے اور صوبے کے 1200ملین ایکڑ فٹ اوسط سالانہ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں۔ اس طرح سوشل سیکٹر تعلیم اور صحت کو کوئی ترجیح نہیں دی گئی ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فاٹا کے انضمام کے وقت جو وعدہ کیا گیا تھا اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا اور اسی طرح 10سال کے لیے مختلف ٹیکسز کی استثنیٰ کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا اور صرف یہی نہیں ڈیورنڈ خط پر صدیوں سے جاری آزادنہ آمدورفت اور تجارت بندکرنے کی پشتون دشمن اقدام سے تجارت اور روزگار کا خاتمہ کرنے کا غیر قانونی اور صدیوں سے جاری روایات کی پائمالی کی گئی ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سرکاری دہشت گردی ، بدامنی ، لاقانونیت ، سرکاری کارڈ ہولڈرز کے ذریعے چوری ،ڈکیتی ،اغواءبرائے تاوان اور قتل جیسے سنگین واقعات پر حکومتی خاموشی تمام پشتونخوا وطن اور بلوچستان میں لوگوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے ۔ وفاقی حکومت ، صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز سروسز دیگر سرکاری اعانت کے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پراجیکٹ میں نظر اندازی کا نوٹس لینا پشتون محب وطن اور قوم دوست عوام اور زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کی ذمہ دارری ہے اور تمام پشتونخوا وطن کے باسیوں نے اعلان کرنا ہوگا کہ جاری ناروا سلوک اور پشتون دشمن رویہ اور نظر اندازی کے خاتمے کے لیے آواز بلند کرنا ہوگا۔ بیان کے آخر میں وفاق اور صوبوں کے ٹیکسز کے استثنیٰ کو بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وفاق اور صوبے کی حکومتوں نے پشتون دشمنی پر مبنی تجارتی ، کاروباری رویہ کو ترک نہ کیا تو پارٹی اپنے عوام اور زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کی مدد وتعاون سے احتجاجی تحریک کی راہ اپنائے گی جس کی تمام ذمہ داری فارم 47کی مسلط ، نااہل ، ناکام وفاقی وصوبائی حکومت /حکومتوں پر ہوگی ۔

WhatsApp
Get Alert