’جو مجھے اپنی شادی میں بلائیں گی وہ ہاتھ اٹھائیں‘ گورنر سندھ کا یونیورسٹی گریجویٹ طالبات سے سوال

کراچی (قدرت روزنامہ) یونیورسٹی کے کانووکیشن کی تقریب میں گورنر سندھ نہال ہاشمی کی جانب سے گریجویٹ طالبات سے شادی، ساس اور بہو کے روایتی رشتوں پر کی گئی گفتگو پر پاکستان مسلم لیگ ن کی سینیئر رہنما حنا پرویز بٹ کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا، حنا پرویز بٹ نے گورنر سندھ کے اس اندازِ گفتگو کو اپنے منصب اور مرتبے کے منافی قرار دیتے ہوئے سخت افسوس کا اظہار کیا۔
تفصیلات کے مطابق کانووکیشن میں گورنر سندھ کی گفتگو کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “گورنر سندھ کو شاید اپنے عہدے اور مرتبے کا پتا ہی نہیں ہے، ان کو اتنا تو پتا ہونا چاہیے کہ یہ ایک صوبے کے گورنر ہیں اور تقریب میں موجود ‘فی میل گریجویٹس’ سے خطاب کر رہے ہیں، یہ ویڈیو دیکھ کر مجھے انتہائی افسوس ہوا۔
گورنر سندھ کو شاید اپنے عہدے اور مرتبے کا نہیں پتا، ان کو اتنا تو پتا ہونا چاہیے کہ یہ ایک گورنر ہیں اور female graduates سے خطاب کر رہے ہیں، یہ ویڈیو دیکھ کر مجھے انتہائی افسوس ہوا۔ بیچاری بچیاں اس طرح کے سوالوں سے شرمندہ ہو رہی ہیں اور گورنر صاحب ایک کے بعد ایک فضول سوال پوچھ… https://t.co/jTbXzatF0v
— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) July 5, 2026
حنا پرویز بٹ نے گورنر کی گفتگو پر مزید کہا کہ تقریب کے دوران بیچاری بچیاں اس طرح کے غیر ضروری سوالوں سے شدید شرمندگی محسوس کر رہی ہیں، جبکہ گورنر صاحب ہیں کہ ایک کے بعد ایک فضول سوال پوچھے جا رہے ہیں، یہ انتہائی افسوسناک رویہ ہے۔
اس سے قبل یونیورسٹی کانووکیشن کی تقریب کے دوران گورنر سندھ نہال ہاشمی نے طالبات سے ہنسی مذاق کرتے ہوئے اچانک سوال داغ دیا تھا کہ “جو مجھے اپنی شادی میں بلائیں گی وہ ہاتھ اٹھائیں” جس پر ہال کی بائیں جانب موجود طالبات نے اپنے ہاتھ ہوا میں بلند کیے، اس پر انہوں نے دائیں جانب بیٹھی طالبات سے کہا کہ “اس سائیڈ سے ہاتھ اٹھ گئے، دائیں سائیڈ والے کنجوس ہیں؟ زور سے بولو بلاؤ گی ناں، بلائیں گی!” انہوں نے طالبات کو دعائیں بھی دیں کہ اللہ آپ کے گھروں کو آباد رکھے۔
اس کے ساتھ گورنر سندھ نے اپنی گفتگو کا رخ ساس بہو کے جھگڑوں کی طرف موڑتے ہوئے کہا کہ “جو جو ساس بہو کی کہانی کرے گی وہ ہاتھ اٹھائیں، کوئی مت اٹھانا!” جس پر دو طالبات نے ہاتھ اٹھا دیا، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ “اور جو ساس کو اپنی اماں سمجھے گی وہ ہاتھ اٹھا لے، اٹھا لو کنجوسی نہ کرو، کیا خوش قسمت ہوگا وہ جوڑا جو ساس کو اماں سمجھیں گی”، دائیں جانب سے کسی طالبہ کی جانب سے ہاتھ نہ اٹھائے جانے پر انہوں نے برجستہ جملہ کسا کہ “دائیں سائیڈ سے کوئی نہیں، سب نے نکال دینا ہے کیا ان کو گھر سے؟”۔
