’ہماری ملاقاتوں کا تماشہ مت بنائیں؟ کوئی سوال نہیں ہے تو فضول ٹائم ضائع نہ کریں‘

اقرار الحسن کی پارٹی کے حوالے سے سوال پر عمران خان کی بہنوں کا جواب


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بہنوں نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا، انہوں نے میڈیا نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “ہماری ملاقاتوں کا تماشہ مت بنائیں؟ اگر کوئی سوال نہیں ہے تو فضول ٹائم ضائع نہ کریں”، یہ جواب انہوں نے اینکر اقرار الحسن کی پارٹی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر دیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے عوام اور کارکنان پر دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو اندازہ نہیں کہ لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، لوگوں کو راتوں کو فون کالز پر باقاعدہ دھمکیاں آتی ہیں کہ انہوں نے اڈیالہ جیل کے باہر بالکل نہیں جانا، ہم نے یہ تجویز دی ہے کہ اس سنگین مسئلے کو سب اکٹھے ہو کر اسمبلی میں اٹھائیں اور کھل کر بتائیں کہ آخر کون دھمکیاں دے رہا ہے، یاد کرو عمران خان نے ایک جلسے میں کہا تھا کہ اگر یہ آپ کو دھمکیاں دیں تو واپس ان کو دھمکیاں دو۔
انہوں نے وفاقی حکومت اور جیل انتظامیہ کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم صرف ایک ملاقات نہیں بلکہ عمران خان کی قیدِ تنہائی کا مکمل خاتمہ اور ان کے تمام حقوق کی بحالی چاہتے ہیں، ہم پچھلے چار ماہ سے یہی کہہ رہے ہیں کہ ان کا مکمل علاج کروایا جائے اور عمران خان و بشریٰ بی بی کے تمام حقوق بحال کیے جائیں، ہم نے ایسا کیا غلط بولا ہے؟ یہ لوگ جھوٹ خود بولتے ہیں اور جھوٹا بیانیہ بھی خود ہی بناتے ہیں، ہمارا شروع سے لے کر آج تک صرف ایک ہی مطالبہ ہے اور وہ یہ کہ ایک ملاقات نہیں بلکہ مکمل علاج، تمام حقوق کی بحالی اور قیدِ تنہائی کا خاتمہ کیا جائے۔
علیمہ خان نے کہا کہ سکیورٹی کے نام پر سپرنٹنڈنٹ جیل کو ایک شخص کی ملاقات کی درخواست دلوانا دراصل وفاقی وزیر محسن نقوی کی ایک سوچی سمجھی سازش تھی، ہمیں ہمارے وکلاء نے اس درخواست کو دینے سے صاف منع کیا تھا، اگر یہ درخواست چلی گئی تو وہ عمران خان سے ہر ہفتے 18 افراد کی ملاقات کے لارجر بینچ کے آرڈر کو بائی پاس کر دے گی، محسن نقوی دراصل یہ چاہتا تھا کہ ہم درخواست دیں تاکہ لارجر بینچ کا وہ تاریخی آرڈر ضائع ہو جائے۔
عمران خان کی دوسری ہمشیرہ نورین نیازی نے جیل حکام کے رویے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی ہم بالکل ٹائم پر پہنچے ہیں اور پچھلی دفعہ بھی ٹائم پر ہی پہنچ گئے تھے، یہ صرف ان کے بہانے ہیں کہ ہم وقت پر نہیں پہنچے، جیل حکام میں سے کوئی بھی ہم سے بات کرنے کے لیے باہر نہیں آیا اور نہ ہی کسی نے ہم سے کوئی بات کی تھی، اب بھی ہم نے ایس ایچ او کو کہا ہے وہ اندر اطلاع دے دیں کہ ہم آ گئے ہیں، جس پر اس نے کہا کہ اندر اطلاع بھجوا دی ہے۔

WhatsApp
Get Alert