زیارت بلوچستان کا ماتھا ہے اور زیارت کے امن کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا، نور محمد دمڑ


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نورمحمد خان دمڑ نے زیارت کے علاقے کچ مانگی میں پولیس چوکی پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اپنے بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ دہشتگردوں کے اس حملے میں شہید ہونے والے دو ایس ایچ اوز سمیت 9 پولیس کے جوانوں نے وطن کے دفاع اور عوام کے امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ وہ قوم کے حقیقی ہیرو ہیں اور ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
نورمحمد خان دمڑ نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے اس گھنانے حملے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ عناصر بلوچستان کی ترقی، امن اور عوام کی خوشحالی کے دشمن ہیں۔ یہ لوگ صوبے میں انتشار پھیلا کر عوام اور ریاست کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
صوبائی وزیر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم کسی کو بھی صوبے اور بالخصوص زیارت جیسے پرامن ضلع کے امن کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ زیارت بلوچستان کا ماتھا ہے اور زیارت کے امن کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امن دشمن دہشتگردوں کے مکمل سدِ باب تک ان کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی۔ ہماری بہادر مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے دن رات قربانیاں دے رہے ہیں اور پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
حاجی نورمحمد خان دمڑ نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ شہدا کے خون سے سینچی گئی سرزمین کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم دہشتگردوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ جتنی بھی بزدلانہ کارروائیاں کر لیں، بلوچستان کی عوام اور حکومت کا عزم متزلزل نہیں ہو سکتا۔
صوبائی وزیر نے تمام شہدا کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشتگردوں کے خلاف اپنی پالیسیوں کے مطابق سخت ترین جواب دے گی اور اپنے شہدا کے خون کا ایک ایک قطرہ کا حساب لیا جائے گا تاکہ آئندہ کوئی بھی بلوچستان کے امن پر آنچ نہ لا سکے۔
صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے بلوچستان کے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین سے کہا ہے کہ یہ وقت لاشوں پر سیاست کرنے کا نہیں بلکہ صوبے میں قیام امن کے لیے یکجہتی کی ضرورت ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں صوبے میں قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کے ساتھ ایک پیج پر کھڑے ہو جائیں۔

WhatsApp
Get Alert