غیر قانونی طور پر ترکیہ سے یورپ جانے کی کوشش پر 24 افغان باشندے گرفتار

انقرہ (قدرت روزنامہ) ترک حکام نے غیر قانونی طور پر ترکیہ سے یورپ جانے کی کوشش پر 24 افغان باشندوں کو گرفتارکرلیا، جس میں سات خواتین اور چھ بچے بھی شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں اچانک تیزی آگئی، جس کے بعد ترکیہ اور یورپ میں گرفتاریوں کی ایک نئی لہر شروع ہو چکی ہے۔
یورپی ممالک کے لیے افغان باشندوں کی بڑے پیمانے پر انسانی اسمگلنگ سنگین سیکیورٹی چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
افغان میڈیا جریدے ‘افغان انٹرنیشنل’ نے بتایا کہ ترک حکام نے غیر قانونی طور پر ترکیہ کے راستے یورپ جانے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے مزید 24 افغان باشندوں کو حراست میں لے لیا، ترکیہ کے شہر ادرنہ میں گرفتار ہونے والے افغان باشندوں میں 7 خواتین اور 6 بچے بھی شامل ہیں۔
ترک پولیس نے افغان شہریوں کو غیر قانونی طریقے سے سرحد پار منتقل کرنے کے الزام میں بس ڈرائیور کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔
ایجنسی کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران 16 ہزار 436 افغان باشندوں کو قانونی رہائشی کارڈ نہ ہونے کے باعث حراست میں لیا جا چکا ہے۔
غیر قانونی نقل مکانی کے خلاف صرف ترکیہ ہی نہیں بلکہ یورپی یونین کے ممالک بھی سخت ایکشن لے رہے ہیں، محض دو روز قبل پولینڈ کے حکام نے بھی سرحد پار کر کے غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے 15 افغان باشندوں کو گرفتار کر کے قانون کے حوالے کیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے سمیت کئی عالمی اداروں نے اپنی رپورٹس میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ افغانستان میں طالبان رجیم کی سخت گیر پالیسیاں اور مبینہ انتقامی کارروائیاں ہی افغان باشندوں کی اس بڑے پیمانے پر غیر قانونی نقل مکانی کی اصل ذمہ دار ہیں۔
دنیا کے مختلف خطوں سے افغان باشندوں کی حالیہ گرفتاریاں اور ملک بدری کے اقدامات اس بات کا واضح عکاس ہیں کہ اب عالمی برادری اور میزبان ممالک سیکیورٹی اور معاشی خدشات کے باعث ان کی غیر قانونی موجودگی کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
