شہید اکبر شیرانی نے ہم سب کو اپنا مقروض بنا دیا

تحریر:نقیب اللہ تارن
زیارت پولیس پرحملہ ہوا تو اہلکاروں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا ، ان کے پاس چھوٹا اسلحہ تھا اور محدود گولیاں تھیں جو ختم ہوگئیں ، مدد کے لئے انتظامیہ کو کال کرتے رہے لیکن بے حسی آخری درجے پر پہنچ چکی تھی ، عینی شاہدین کے مطابق اہلکاروں نے انتظامیہ کی بے حسی کے باعث مایوس ہو کر قریبی علاقوں میں رہنے والے اپنے عزیز واوقارب کو مدد کیلئے پکارا لیکن انتظامیہ نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی ، اہلکاروں نے آخری کال میں عزیز واقارب کو بتایا کہ اب ہمارے اور موت کے درمیان صرف بیس منٹ کا فاصلہ رہ گیا ہے ،اس کے بعد ان کے نواہلکار مارے گئے اور دو درجن کے قریب اہلکاروں کو اغواء کرلیا گیا
مغوی اہلکاروں میں ایک اہلکارضلع زیارت کے علاقے سنجاوی کے رہائشی اکبر شیرانی بھی شامل تھے ،اکبر شیرانی کا چند دن قبل ہی مانگی تبادلہ ہوا تھا ، انہوں نے ٹرانسفر کے وقت فیس بک پر ایک پوسٹ بھی کی تھی کہ میرا تبادلہ مانگی ہوا ہے (یاد رہے مانگی ضلع زیارت کا حساس علاقہ ہے ) ، اکبر شیرانی اپنی پوسٹ پر آگے جاکر کمنٹ کرتے ہیں کہ ” مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا “ ، ایک اور پوسٹ پر ان کے دوست کا کمنٹ ہے کہ فورس کو کیا کرنا ہے، نوکری کو چھوڑ دو ، میں تعاون کروں گا اپنا ایک کاروبار شروع کردیں ، اکبر شیرانی پھر کہتے ہیں کہ بس شہادت کا شوق ہے
گزشتہ دنوں مانگی میں مقابلے کے دوران جب اکبر شیرانی کی سرکار سے امید ختم ہوئی ہے تو انہوں نے ایک کاغذپر وصیت لکھ کے جیب میں ڈال دیا ، ان کی شہادت کے بعد خون سے لت پت وصیت نامہ ان کی جیب سے نکلا تو اس میں لکھا تھا کہ مجھ پر فلاں فلاں شخص کے قرضے ہیں ، اور اپنوں کو وصیت کی ہے کہ میرے بعد یہ قرضہ ادا کردیں
شہید اکبر شیرانی کا قرضہ تو ادا ہوجائے گا لیکن شہید اکبر شیرانی نے ہم سب کو اپنا مقروض بنا دیا
