’10 فیصد ملازم، 12 فیصد حکومت ، گورنمنٹ کے پینشن سے متعلق نئے مالیاتی فارمولے کے اہم نکات سامنے آ گئے

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزارتِ مالیات نے پینشن اصلاحات کے عملی نفاذ کے لیے 622.4 ملین (62.24 کروڑ) روپے جاری کر دیے ہیں، جس کے تحت نئے سرکاری ملازمین کے لیے روایتی پینشن کا طریقہ کار ختم کر کے ’کنٹریبیوٹری پینشن‘ کا نیا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔
محکمہ مالیات کی جانب سے 622.4 ملین روپے کی رقم کا اجرا ملک میں پینشن کے نظام کی ساخت کو تبدیل کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ اس نئے فنڈنگ فریم ورک کے تحت اب سرکاری ملازمین کو روایتی پینشن کے بجائے ایک مشترکہ فنڈ سے رقم دی جائے گی۔
اس نئے نظام میں ملازم اور حکومت دونوں مالی حصص ڈالیں گے، تاکہ پینشن کا تمام تر بوجھ تنہا قومی خزانے پر نہ پڑے۔ اس رقم کی فراہمی سے نئے نظام کے انتظامی امور کو چلانے اور منتقلی کے عمل کو ہموار بنانے میں مدد ملے گی۔
وفاقی سطح پر قوانین اور مالیاتی فارمولا
وفاقی حکومت پہلے ہی نئے آنے والے ملازمین کے لیے ’ڈیفائنڈ کنٹریبیوشن‘ کا قانون اور طریقہ کار مرتب کر چکی ہے۔ وزارتِ مالیات کی جانب سے طے کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق ہر ملازم اپنی پینشن کے لیے مقررہ بنیادی تنخواہ کا 10 فیصد حصہ دے گا، جبکہ حکومت اس میں 12 فیصد کا اضافہ کرے گی۔
یوں ملازم کے اکاؤنٹ میں کل 22 فیصد کی مشترکہ رقم جمع ہوتی رہے گی۔ اس سلسلے میں وزارتِ مالیات نے اگست 2026 میں ’ڈیفائنڈ کنٹریبیوشن پینشن فنڈ اسکیم‘کے عملدرآمد کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا، جبکہ جولائی میں ان فنڈز کو چلانے کے لیے اہلیت رکھنے والے ’پینشن فنڈ مینیجرز‘ کی فہرست بھی جاری کی جا چکی ہے۔
پنجاب کا بجٹ اور بڑھتا ہوا مالیاتی بوجھ
پینشن کے موجودہ نظام کی وجہ سے صوبائی اور وفاقی خزانے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ مثال کے طور پر، پنجاب کے مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں پینشن کی مد میں میں 3.5 فیصد اضافے کے بعد کل 500.12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ رقم ظاہر کرتی ہے کہ اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو آنے والے سالوں میں حکومت کی جاریہ اور ترقیاتی اخراجات کی صلاحیت محدود ہو کر رہ جائے گی۔
پاکستان میں کئی دہائیوں سے قائم روایتی پینشن کا نظام مکمل طور پر سرکاری خزانے کی براہِ راست فنڈنگ پر منحصر رہا ہے، جہاں ملازم کی تنخواہ سے کوئی کٹوتی نہیں کی جاتی تھی۔
تاہم ملازمین کی تعداد میں اضافے اور اوسط عمر بڑھنے سے پینشن بل اتنا بڑھ گیا کہ یہ ملکی مالیات کے لیے ایک سنگین چیلنج بن گیا۔
اس مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت نے دنیا کے دیگر ممالک کی طرز پر نیا ’ڈیفائنڈ کنٹریبیوشن‘ نظام لانے کا فیصلہ کیا، جس سے بتدریج تمام نئے بھرتی ہونے والے سرکاری اہلکاروں کو جوڑا جا رہا ہے۔
نئے پینشن نظام کا نفاذ بلاشبہ ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کی طرف ایک لازمی اور اہم پیش رفت ہے۔ طویل المدتی بنیادوں پر یہ اقدام وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر سے ناقابلِ برداشت مالیاتی بوجھ کو واضح طور پر کم کرے گا۔
تاہم اس تبدیلی کے مثبت نتائج کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ پینشن فنڈ مینیجرز ان فنڈز کو کن شعبوں میں اور کتنا محفوظ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اگر ان فنڈز کی شفافیت اور پیشہ ورانہ نگرانی کو یقینی بنایا جائے تو نہ صرف سرکاری خزانے کو بچایا جا سکتا ہے بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمین کو بھی ایک محفوظ اور مستحکم سرمایہ مل سکے گا۔

WhatsApp
Get Alert