سنگجانی جلسہ کیس، پی ٹی آئی رہنماؤں کا گھیرا تنگ، زرتاج گل اور عمر ایوب کا نام ای سی ایل میں ڈالنے، شیخ وقاص اکرم، زین قریشی کے خلاف اشتہاری کارروائی کا آغاز

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے سنگجانی جلسہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنماؤں زرتاج گل اور عمر ایوب کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے شیخ وقاص اکرم اور زین قریشی کے خلاف اشتہاری کی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے تھانہ سنگجانی میں درج مقدمے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں زرتاج گل اور عمر ایوب کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (‘ای سی ایل’) میں شامل کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں کی جائیدادوں کی تفصیلی معلومات بھی طلب کر لیں۔
عدالت نے مسلسل عدم پیشی پر شیخ وقاص اکرم اور زین قریشی کے خلاف باقاعدہ ‘اشتہاری’ قرار دینے کی قانونی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب کیس میں نامزد شعیب شاہین، علی بخاری اور علی شاہ کی جانب سے دائر حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں منظور کر لی گئیں۔ بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 31 اکتوبر 2026 تک ملتوی کر دی۔
‘تھری ایم پی او’ حراست کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے پی ٹی آئی کے 2 اراکین اسمبلی عادل بازئی اور داوڑ کنڈی کی ‘تھری ایم پی او’ کے تحت حراست کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جواب جمع نہ کرائے جانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ ایڈووکیٹ جنرل آفس کی جانب سے بدھ تک کی مہلت طلب کی گئی، تاہم عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے پیر تک ہر صورت جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔
فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ ’پیر کو میں دستیاب نہیں ہوں گا، لہٰذا کیس کسی دوسرے دستیاب بنچ کے سامنے مقرر کیا جائے گا‘۔ بعد ازاں کیس کی سماعت پیر 5 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
26 نومبر احتجاج کیس، علیمہ خان کا فیصلہ پھر مؤخر
تھانہ صادق آباد میں درج 26 نومبر احتجاج سے متعلق کیس میں انسداد دہشتگردی عدالت نے علیمہ خان اور دیگر کے خلاف محفوظ کیا گیا فیصلہ ایک بار پھر مؤخر کر دیا ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت 9 اکتوبر 2026 تک ملتوی کر دی۔ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک ایڈووکیٹ نے بتایا کہ انہوں نے عدالت میں ایک نئی درخواست دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ وکیلِ صفائی کے حتمی دلائل سنے بغیر فیصلہ نہ سنایا جائے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ میڈیا کے ذریعے فیصلہ محفوظ ہونے کی اطلاع ملی تھی، جبکہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔
وکیل کا مزید کہنا تھا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کا پیغام پہنچانے پر علیمہ خان پر مقدمہ درج ہو سکتا ہے تو 26 نومبر احتجاج کا ذکر کرنے والے وفاقی وزیر داخلہ پر مقدمہ کیوں درج نہیں ہوا؟
قانونی کاغذی کارروائی
وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کی عدالتوں میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف جاری متعدد مقدمات میں حالیہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ عدالتی اور قانونی دباؤ انتہائی شدت اختیار کر چکا ہے۔
معمول کے مطابق جب نامزد ملزمان عدالت کے سامنے پیش ہونے سے گریز کرتے ہیں تو ای سی ایل میں نام ڈالنے، جائیدادیں ضبط کرنے کی طرف بڑھنے اور اشتہاری قرار دینے کے احکامات قانونی عمل کو مکمل کرنے کی کڑیاں ہوتے ہیں۔
دوسری طرف ’تھری ایم پی او‘ کے احکامات کی ہائیکورٹ میں شنوائی اور انتظامیہ سے فوری جواب طلبی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عدالتیں انتظامی اختیارات کے استعمال پر آئینی حدود کا جائزہ لے رہی ہیں۔
وکلا صفائی کی جانب سے حتمی دلائل سے قبل فیصلے پر روک لگانے کی استدعا قانونی دفاع کا ایک اہم موڑ ہے، جو آنے والے دنوں میں کیس کی سمت متعین کرے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف سنگجانی جلسے اور 26 نومبر کو ہونے والے احتجاج کے تناظر میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں انسداد دہشتگردی اور دیگر سنگین دفعات کے تحت متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔
