کوئٹہ پر مسلط ‘درآمدی’ افراد نے مسائل میں اضافہ کر دیا؛ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کا محکموں کی کارکردگی پر تنقید

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں صوبہ بھر میں امن و امان کی خراب صورتحال کے ساتھ تمام محکموں کی کارکردگی پر بھی شدید الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جب سے کوئٹہ شہر پر درآمدی افراد کو مسلط کیا گیا ہے تب سے عوام اور کوئٹہ کے شہریوں کے مسائل میں روزانہ کے حساب سے اضافہ ہورہا ہے۔ جن مسائل پر گزشتہ حقیقی عوامی نمائندوں کے دور میں قابو پاکر ایک سسٹم اور میکانزم مرتب کیا گیا تھا اس سسٹم کو جعلی درآمد کردہ غیر منتخب افراد نے بری طرح خراب کرکے رکھ دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ کوئٹہ شہر میں اب نہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا کوئی اوقات کار ہے اور نہ ہی گیس میسر ہے۔ شہریوں کو پینے کے پانی کا شدید مسئلہ درپیش آچکا ہے۔ یہ وہ محکمے ہیں جن کو گزشتہ دور میں عوام کا ہمدرد بنا دیا گیا تھا مگر اب یہ محکمے شتر بے مہار بن گئے ہیں اور ان سے باز پُرس کرنے والا کوئی نہیں۔ کوئٹہ کے شہریوں کو یاد ہوگا کہ کوئٹہ کے منتخب نمائندے سخت سردی کے ایام میں گیس کمپنی کے باہر عوام کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوا کرتے تھے اور کئی مرتبہ محکمہ گیس کے اعلیٰ حکام کو اسمبلی میں طلب کرکے ان سے بازجوئی کی جاتی تھی۔
آج اس شہر کے صارفین کو کئی دیگر مسائل کے ساتھ پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ محکمہ واسا کے زیر انتظام ٹیوب ویلوں کو جہاں ایک سسٹم دیا گیا تھا اب بری طرح اس کی کارکردگی متاثر ہوچکی ہے۔ ٹیوب ویل کئی کئی دن خراب رہتے ہیں جن کی مرمت کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ اس کی واضح مثال علمدار روڈ کے ٹیوب ویل ہیں جن میں سے اکثر سے نصف شہری آبادی کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ محکمے جعلی ممبران کی بجائے حقیقی عوام اور ان کے مسائل کی طرف توجہ دیں تاکہ عوام ان کی کارکردگی سے مطمئن ہوسکیں اور پانی، گیس اور بجلی کی فراہمی تواتر کے ساتھ جاری رہے۔
