رجب بٹ اور ایمان فاطمہ نے دوبارہ ساتھ رہنے کا فیصلہ کرلیا؟ بھائی کے حیران کن انکشافات

لاہور(قدرت روزنامہ)متنازع یوٹیوبر رجب بٹ اور ان کی اہلیہ ایمان فاطمہ کے حوالے سے سامنے آنے والی تازہ اطلاعات نے ایک نئی بحث چھیڑدی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں نے باہمی اختلافات ختم کرتے ہوئے ایک بار پھر ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
رجب بٹ اور ایمان فاطمہ کا شمار پاکستان کے معروف سوشل میڈیا جوڑوں میں ہوتا ہے۔ ان کی منگنی اور شادی کی تقریبات نے انٹرنیٹ پر خاصی مقبولیت حاصل کی تھی، لیکن شادی کے پہلے ہی سال دونوں کے تعلقات میں کشیدگی کی خبریں سامنے آنے لگیں۔ اسی دوران ان کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش بھی ہوئی، تاہم اختلافات کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتے گئے۔
معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب رجب بٹ نے عوامی سطح پر طلاق دینے کا اعلان کیا اور ایمان فاطمہ کو قانونی نوٹس بھی بھجوا دیا۔ اس پیش رفت کے بعد ایمان کے بھائی عون شیخ اپنی بہن کے حق میں کھل کر سامنے آئے اور مختلف مواقع پر اس معاملے پر اظہارِ خیال بھی کرتے رہے۔
اب عون شیخ ہی نے ایک نئی اپڈیٹ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں میاں بیوی نے اپنے اختلافات ختم کر لیے ہیں۔ ان کے مطابق ان کی والدہ نے انہیں اس معاملے میں مزید مداخلت نہ کرنے کا مشورہ دیا اور یہ سمجھایا کہ رجب بٹ گھر کے سربراہ ہیں، اس لیے تنازع کو طول دینا کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا۔ عون شیخ کا کہنا ہے کہ اسی کے بعد معاملات بہتری کی جانب بڑھے اور دونوں نے دوبارہ ایک ساتھ رہنے کا فیصلہ کرلیا۔
اس مبینہ صلح کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔ بعض افراد نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جبکہ کئی صارفین نے اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاید یہ مصالحت زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکے۔ کچھ لوگوں نے اس معاملے کو مالی مفادات سے بھی جوڑا، جبکہ دیگر نے تبصرہ کیا کہ اب عوام کی دلچسپی اس تنازع میں پہلے جیسی نہیں رہی۔
رجب بٹ اپنے متنازع وی لاگز اور سوشل میڈیا مواد کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتے ہیں، جبکہ ان کی ذاتی زندگی کے معاملات بھی متعدد بار عوامی بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔ کئی صارفین نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ خاندانی معاملات کو بار بار سوشل میڈیا پر لانا مناسب نہیں اور ایسے تنازعات کو نجی سطح پر ہی حل کیا جانا چاہیے۔
