خبردار! ویزہ کے کاغذات کی تصدیق کیلئے کسی ایجنٹ کا سہارا ہرگز مت لیں

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) بیورو آف امیگریشن اینڈ ایمپلائمنٹ ایکسچینج نے مختلف ممالک کے ویزا لگوانے والے پاکستانیوں کیلئے ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ویزہ کے کاغذات کی تصدیق کیلئے کسی ایجنٹ کا سہارا ہرگز مت لیں، جعلساز مختلف سرکاری اداروں کے جعلی دستخط اور مہریں استعمال کرتے ہیں، ویزہ ہولڈر کیلئے سنگین نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں، بیورو آف امیگریشن کے مطابق اطلاعات ہیں کہ کچھ پاکستانی ویزے کے حصول کیلئے غیر قانونی ایجنٹوں کا سہارا لے رہے ہیں، جو غیر مجاز طریقوں سے دستاویزات کی تصدیق کراتے ہیں۔
لیکن یہ جعلساز مختلف سرکاری اداروں کے جعلی دستخط اور مہریں استعمال کرتے ہیں، جبکہ بہت سے امیدوار جعل سازی کے باعث اپنی درخواستوں میں دھوکا دہی کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔
ان جعلی دستاویزات میں اکثر تعلیمی اسناد، بینک اسٹیٹمنٹس، اور پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ کی جعلی تصدیق شامل ہوتی ہیں۔ یہ غیرقانونی عمل نہ صرف ویزا لگوانے والے سے محروم کرسکتا ہے، بلکہ سنگین نتائج کے ساتھ دوسرے ممالک میں داخلے پر مستقل پابندی اور ملک بدری بھی شامل ہوسکتی ہے۔
اس طرح کا عمل پاکستان کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، ایسے غیر قانونی عمل میں ملوث افراد کیخلاف ایف آئی اے کے ذریعے قانونی کارروائی کے احکامات بھی جاری کیے جاسکتے ہیں۔ دوسری جانب حکومتِ پاکستان نے بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جانے والے لاکھوں شہریوں کے لیے جدید ترین سہولت متعارف کروا دی، بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے امیگریشن کے روایتی نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرتے ہوئے آن لائن پروٹیکٹر سسٹم کا آغاز کردیا، جس کے بعد اب شہریوں کو دفاتر کے چکر کاٹنے اور ایجنٹوں کے ہاتھوں لٹنے سے نجات مل جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق نئے متعارف کردہ ‘ای پروٹیکٹر’ سسٹم کے تحت اب بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جانے والے افراد اپنی رجسٹریشن گھر بیٹھے اپنے موبائل فون، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر کے ذریعے چند منٹوں میں مکمل کرسکیں گے، اب کسی بھی درخواست گزار کو پروٹیکٹر افس جا کر گھنٹوں طویل لائنوں میں لگنے کی بالکل ضرورت نہیں ہوگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل نظام کا بنیادی مقصد امیگریشن کے پرانے اور وقت طلب طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، ماضی میں دور دراز علاقوں اور دیہات کے رہائشیوں کو پروٹیکٹر رجسٹریشن کے لیے بڑے شہروں میں قائم متعلقہ دفاتر کا مہنگا سفر کرنا پڑتا تھا، جہاں مختلف مراحل سے گزرنے کے علاوہ ان کا وقت اور پیسہ دونوں ضائع ہوتے تھے، اب یہ تمام مراحل ایک کلک پر آن لائن دستیاب ہوں گے۔
بتایا گیا ہے کہ درخواست گزار اب بیورو آف امیگریشن کی ویب سائٹ یا پورٹل پر جا کر درج آسان اقدامات کے ذریعے اپنا پروٹیکٹر حاصل کر سکیں گے، جس کیلئے شہری موبائل یا کمپیوٹر کے ذریعے پورٹل پر اپنی مطلوبہ معلومات درج کریں گے، نوکری کے معاہدے اور دیگر ضروری دستاویزات اپ لوڈ کرنا ہوں گی، آن لائن طریقے سے مقررہ سرکاری فیس ادا کریں گے، فیس کی ادائیگی اور تصدیق کے بعد پروٹیکٹر رجسٹریشن کا عمل خودکار طریقے سے مکمل ہو جائے گا۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے کہا ہے کہ یہ جدید نظام امیگریشن آرڈیننس 1979ء اور تمام متعلقہ ملکی قوانین کے عین مطابق تیار کیا گیا ہے، اس نظام سے جہاں شہریوں کا وقت بچے گا، وہاں پورے عمل میں شفافیت آئے گی اور رشوت ستانی کا خاتمہ ہوگا، تمام ریکارڈ ڈیجیٹل فارمیٹ میں محفوظ ہونے سے حکومت کے پاس بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کا 100 فیصد مستند ڈیٹا موجود رہے گا، جس سے اوورسیز پاکستانیوں کو کسی بھی مشکل گھڑی میں قانونی تحفظ فراہم کرنے اور ان کے لیے بہتر پالیسیاں بنانے میں مدد ملے گی۔

