کراچی: کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈاکٹر آکاش کی کار پر فائرنگ کی ویڈیو سامنے آگئی

کراچی (قدرت روزنامہ) کراچی کے علاقے کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈاکٹر آکاش کی کار پر فائرنگ کی ویڈیو سامنے آگئی ہے۔ نجی ٹی وی اے آروائی نیوز کو موصول ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ملزم بھاگتا ہوا آیا، ملزم نے پہلے گارڈ پر فائرنگ کی، پھر ملزم نے کار کا گیٹ کھولا اور جلدی سے پیسوں سے بھرا بیگ اٹھایا جبکہ دوسرا بیگ مقتول کے ہاتھ میں تھا، اور اسی دوران ڈاکو نے ڈاکٹرآکاش پر فائرنگ کردی، خوف وہراس میں وہاں بھگدڑ مچ گئی۔
واقعے کے بعد بعدازاں مقتول ڈاکٹرآکاش کے چچا کھیم چند کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے وقت ڈاکٹر آکاش کے ساتھ والد اور کزن بھی ساتھ تھے، بینک کے باہر سرعام فائرنگ کرکے میرے معصوم بھتیجے کو قتل کردیا گیا ہے۔
CCTV footage shows entire incident leading to Dr Akash murder#ARYNews https://t.co/OaqFTLQyW4
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) July 13, 2026
ہمارا تعلق کاروباری خاندان سے ہے اور ہم ملک کے نامور صنعتکار ہیں۔
مقتول کے چچا نے کہا کہ ایسے سڑکوں پر قابل لوگوں کو مارا جائےگا تو کون یہاں رہنا پسند کرے گا، 28 سالہ ڈاکٹر آکاش جناح اسپتال میں 2 سال سے ڈیوٹی کررہے تھے اور وہ غیر شادی شدہ تھے۔ یاد رہے کراچی کے علاقے کلفٹن تین تلوار کے قریب مسلح ملزمان کی فائرنگ اور سکیورٹی گارڈ کی مبینہ جوابی گولی لگنے کے نتیجے میں کار سوار ڈاکٹر آکاش ہلاک ہو گئے، ملزمان پچیس لاکھ روپے سے بھرا بیگ لوٹ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے واقعے کا سخت نوٹس لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ فرئیر تھانے کی حدود میں پیش آیا، مقتول کی شناخت ڈاکٹر آکاش ولد سیٹھ سیرو مل کے نام سے ہوئی ہے، ڈاکٹر آکاش نے مقامی بینک سے 50 لاکھ روپے کی بھاری رقم نکلوائی تھی اور وہ رقم لے کر اپنی آلٹو کار میں روانہ ہوئے تھے کہ بینک کے بالکل قریب ہی موٹر سائیکل سوار مسلح ملزمان نے انہیں گھیرلیا اور کار پر اندھا دھند فائرنگ کردی، فائرنگ کے نتیجے میں ڈاکٹر آکاش شدید زخمی ہوئے، انہیں قریبی نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، بعد ازاں مقتول کی لاش قانونی کارروائی کیلئے جناح ہسپتال منتقل کردی گئی۔
بتایا گیا ہے کہ اس واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ چکی ہے جس میں ملزمان کو بینک کے باہر سرِعام لوٹ مار کرتے دیکھا جا سکتا ہے، کار جیسے ہی بینک کے سامنے رکی، ایک مسلح ڈاکو بھاگتا ہوا آیا اور اس نے پہلے سکیورٹی گارڈ پر فائرنگ کی، اس کے بعد ملزم نے کار کا گیٹ کھولا اور اندر موجود پیسوں سے بھرا ایک بیگ اٹھا لیا، ملزم نے جلدی اور ہڑبڑاہٹ میں صرف ایک بیگ اٹھایا جس میں 25 لاکھ روپے موجود تھے، دوسرا بیگ جس میں بقیہ 25 لاکھ روپے تھے اس کو ڈاکو نہیں دیکھ سکا۔
تحقیقات میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ جب ڈاکو رقم کا بیگ لے کر بھاگ رہا تھا تو بینک کے سکیورٹی گارڈ نے اس پر جوابی فائرنگ کی، گارڈ کی جانب سے چلائی گئی گولی بدقسمتی سے ڈاکو کو لگنے کے بجائے کار کے اندر موجود مقتول ڈاکٹر آکاش کو جا لگی، جو ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی، ملزمان سکیورٹی گارڈز کی فائرنگ کے باوجود 25 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
معلوم ہوا ہے کہ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کلفٹن جیسے پوش علاقے میں ہونے والی اس سنگین واردات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ سے معاملے کی مفصل رپورٹ طلب کر لی، ترجمان آئی جی پی سندھ سید سعد علی نے بتایا کہ آئی جی سندھ نے پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کی مکمل شفاف، غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کی جائیں، قتل کی اصل وجوہات کا سائنسی بنیادوں پر تعین کیا جائے اور اس ہولناک ڈکیتی و قتل میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
