ایرانی طیارے کی لینڈنگ روکنے کی کوشش، یمنی فورسز کے صنعا ایئرپورٹ پر فضائی حملے

یمن (قدرت روزنامہ)یمن کا دارالحکومت صنعا ایک بار پھر دھماکوں سے گونج اٹھا ہے۔ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے مطابق یمنی فوج نے صنعا ایئرپورٹ کے رن وے کو اس وقت نشانہ بنایا جب حوثی باغی ایک ایرانی طیارے کو وہاں لینڈ کروانے کی تیاری کر رہے تھے۔ دوسری جانب حوثی گروپ نے ان حملوں کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہراتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔

عوب نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے پیر کو یمنی فورسز کی جانب سے صنعا ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد ایران کے ایک سویلین طیارے (ماہان ایئر) کو صنعا میں لینڈ کرنے سے روکنا تھا، جس میں تہران سے واپس آنے والا حوثی وفد سوار تھا۔

یمنی حکومت کے مطابق حوثی باغیوں نے یمن کی قومی ایئرلائن کے طیاروں کو صنعا میں اترنے سے روکا جب کہ ایرانی طیارے کو لینڈنگ کی اجازت دی، جو یمنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اس کارروائی سے قبل یمنی وزارتِ دفاع نے شہریوں، ایئرپورٹ عملے، سفارتی مشنز اور امدادی تنظیموں کو فوری طور پر ایئرپورٹ اور اس کے اطراف کا علاقہ خالی کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔

واضح رہے کہ یمن اس وقت عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ملک کا دارالحکومت صنعا، شمالی یمن کے بیشتر علاقے اور بحیرہ احمر کے ساحلی شہر الحدیدہ حوثیوں کے کنٹرول میں ہیں جب کہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت جنوبی شہر عدن سے اپنے امور چلاتی ہے، جسے سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔

دوسری جانب حوثی تحریک نے اس حملے کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق صنعا ایئرپورٹ پر حملوں کے بعد تہران سے حوثی وفد کو لے کر واپس آنے والا ایرانی طیارہ بحیرہ احمر کے ساحلی شہر الحدیدہ کے ایئرپورٹ پر بحفاظت اتر گیا، جو کہ حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔

حوثیوں کے نشریاتی ادارے المسیرہ کے مطابق ایرانی طیارہ متعدد مریضوں، بیرون ملک پھنسے شہریوں اور حوثی وفد کو لے کر الحدیدہ پہنچا ہے۔

یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں ماہ کے آغاز میں بھی حوثیوں نے سعودی عرب پر صنعا میں لینڈ کرنے والے ایک ایرانی طیارے کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا، جو بعد میں حوثی وفد کو لے کر تہران روانہ ہوا تھا۔

اس واقعے کے بعد حوثیوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر سعودی عرب نے دوبارہ یمن پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو جواب میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

یمن کے وزیرِ دفاع محسن الدائری نے پیر کے روز باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی طیاروں کی جانب سے یمنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمنی حکومت نے عالمی برادری کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو سفارتی اور قانونی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ کوششیں انصار اللہ (حوثی تحریک) کو روکنے میں ناکام رہی ہیں۔

WhatsApp
Get Alert