سانحہ زیارت ‘معیشت تباہ اور شہری عدم تحفظ کا شکار؛ انجمن تاجران کا 17 جولائی کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان


کوئٹہ (ڈیلی قدرت) مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ، حضرت علی اچکزئی، یاسین مینگل، عمران ترین، حاجی سعداللہ اچکزئی، حاجی ہاشم کاکڑ، محمد جان اغا درویش،عبدالخالق آغا، حاجی ظفر کاکڑ، غفار لانگو، کلیم کمالزئی، اللہ داد اچکزئی، نعمت آغا، حاجی صالح نورزئی، نعمت ترین، نقیب کاکڑ اور دیگر کابینہ اراکین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان، شہدائے مانگی کے لواحقین کے دھرنے اور آل پارٹیز و شہدائے مانگی دھرنا کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ احتجاجی شیڈول کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کوئٹہ شہر کے تمام یونٹس، تمام مارکیٹ ایسوسی ایشنز اور صوبے بھر میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے تمام ضلعی یونٹس کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ 15 جولائی کو اپنے اپنے اضلاع میں شہدائے مانگی سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بھرپور احتجاجی مظاہرے منعقد کریں، جبکہ 17 جولائی کو صوبہ گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کو ہر صورت کامیاب بناتے ہوئے تمام کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رکھیں۔بیان میں کہا گیا کہ زیارت کے علاقے مانگی میں پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد کی شہادت بلوچستان کی تاریخ کے المناک ترین سانحات میں سے ایک ہے۔ شہدائ￿ کے لواحقین کی جانب سے انصاف کے حصول اور اپنے جائز مطالبات کے حق میں جاری احتجاج ایک آئینی، جمہوری اور انسانی جدوجہد ہے، جس کی حمایت ہر باشعور شہری کی ذمہ داری ہے۔ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان اس غم کی گھڑی میں شہدائے مانگی کے لواحقین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور ان کے تمام جائز مطالبات کی بھرپور تائید کرتی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال مسلسل ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ تاجر، ٹرانسپورٹر، زمیندار، مزدور، سرکاری ملازمین اور عام شہری سب عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ قومی شاہراہوں پر آئے روز حملے، لوٹ مار، مال بردار گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات، اغوائ￿ ، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ نے بلوچستان کی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔ کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو چکی ہیں اور ہزاروں خاندان معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں شاہراہوں کی غیر محفوظ صورتحال کے باعث ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرنا بھی خطرات سے خالی نہیں رہا، جبکہ تجارتی سامان کی ترسیل مسلسل متاثر ہونے سے تاجر برادری شدید مالی بحران سے دوچار ہے اور اپنے روزمرہ اخراجات اور کاروباری ذمہ داریاں پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ بدقسمتی سے بلوچستان میں حکومتی رٹ کمزور دکھائی دے رہی ہے اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔ اگر امن و امان کی موجودہ صورتحال پر فوری اور مؤثر قابو نہ پایا گیا تو اس کے طویل المدتی اور سنگین اثرات بلوچستان کی تجارت، سرمایہ کاری، روزگار اور مجموعی معیشت پر مرتب ہوں گے، جن کے اثرات پورے ملک کی اقتصادی صورتحال پر بھی پڑیں گے۔مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہدائے مانگی کے لواحقین کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں، انہیں انصاف فراہم کیا جائے، بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کیے جائیں، قومی شاہراہوں کو محفوظ بنایا جائے اور تاجروں، ٹرانسپورٹروں، سرکاری ملازمین اور عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔آخر میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے صوبے بھر کی تاجر برادری سے اپیل کی کہ وہ 15 جولائی کے احتجاجی مظاہروں اور 17 جولائی کی صوبہ گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال میں بھرپور شرکت کرکے شہدائے مانگی کے لواحقین کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کریں اور پرامن، منظم اور ذمہ دارانہ انداز میں اس احتجاج کو کامیاب بنائیں، تاکہ حکومت کو واضح پیغام دیا جا سکے کہ بلوچستان کے عوام اپنے شہدائ￿ کے خون اور اپنے بنیادی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے۔

WhatsApp
Get Alert