غفلت یا نااہلی؛ دہشتگردی اور جرائم کے عروج کے باوجود بلوچستان پولیس میں 5ہزار سے زائد آسامیاں خالی، جوانوں کی ترقیاں بھی التواء کا شکار

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان میں دہشت گردی، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے درمیان بلوچستان پولیس کو شدید افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق محکمہ پولیس میں اس وقت مجموعی طور پر 5,147 آسامیاں خالی ہیں، جس کے باعث فورس پر کام کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے امور متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق خالی آسامیوں میں 88 ایس پی، 20 ڈی ڈی، 96 ڈی ایس پی، 42 اسسٹنٹ ڈائریکٹر، 98 انسپکٹر، 23 پراسیکیوٹر انسپکٹر، 247 سب انسپکٹر، 28 آفس سپرنٹنڈنٹ، 96 اسسٹنٹ، 18 سینئر کلرک، 339 جونیئر کلرک، 30 اسسٹنٹ سپروائزر، 500 اردلی، 877 اسسٹنٹ سب انسپکٹر، 365 ہیڈ کانسٹیبل اور 2,280 کانسٹیبل شامل ہیں۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ خالی آسامیوں کی وجہ سے تھانوں، ٹریفک، تفتیش، آپریشنز اور انتظامی شعبوں میں تعینات اہلکاروں کو اضافی ذمہ داریاں نبھانا پڑ رہی ہیں، جس سے نہ صرف ان کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ عوام کو بروقت اور مؤثر پولیس خدمات کی فراہمی بھی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔دوسری جانب پولیس اہلکاروں نے گزشتہ سال سے زیر التوا ترقیوں(پروموشنز)میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ متعدد اہلکار مقررہ سروس، تجربے اور دیگر تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود ترقیوں کے منتظر ہیں، جبکہ بروقت ترقی سے فورس کا مورال بلند ہوتا ہے اور پیشہ ورانہ کارکردگی میں بھی بہتری آتی ہے۔پولیس اہلکاروں نے انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر اور وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ پولیس میں خالی آسامیوں پر فوری طور پر بھرتیوں کا عمل شروع کیا جائے۔
گزشتہ سال سے زیر التوا ترقیوں کے کیسز جلد نمٹائے جائیں اور فورس کو درپیش افرادی قوت کے بحران پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ دی جائے تاکہ دہشت گردی اور جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے ساتھ عوام کو بہتر سیکیورٹی فراہم کی جا سکے۔
