تعلیم دشمن پالیسیاں اور کھوکھلے دعوے ؟ صحبت پور میں 95فیصد بچیوں کے اسکول بند، تعلیمی نظام تباہ ‘ محکمہ تعلیم کی مجرمانہ غفلت؛ نونہال جوہڑوں کا پانی پینے پر مجبور، سرکاری اسکول بنیادی سہولیات سے یکسر محروم


صحبت پور (قدرت روزنامہ)ضلع صحبت پور میں تعلیمی شعبے کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں ایک رپورٹ کے مطابق 95 فیصد بچیوں کے سرکاری اسکول بند پڑے ہیں، جبکہ فعال تعلیمی اداروں میں بھی بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ضلع کی مختلف تحصیلوں میں بیشتر گرلز اسکول غیر فعال ہیں، جبکہ چند کھلے ہوئے اسکولوں میں مستقل اساتذہ کی بجائے متبادل اساتذہ کے ذریعے تدریسی عمل جاری رکھا جا رہا ہے، جس سے طالبات کی تعلیم شدید متاثر ہو رہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گورنمنٹ پرائمری اسکول عبدالرزاق گولو، گورنمنٹ پرائمری اسکول جمل بگٹی، گورنمنٹ پرائمری اسکول محمد امین کھوسو سمیت متعدد بوائز اسکول بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ان اسکولوں میں پینے کے صاف پانی کا انتظام موجود نہیں، جس کے باعث طلبہ واٹر کورس اور جوہڑوں کا پانی استعمال کرنے اور وہیں اپنی تختیاں دھونے پر مجبور ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بیشتر سرکاری اسکولوں میں طلبہ اور اساتذہ کے لیے بیت الخلا جیسی بنیادی سہولت بھی دستیاب نہیں، جسے تعلیم کے شعبے میں سنگین غفلت قرار دیا جا رہا ہے۔عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت بلوچستان اور محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع صحبت پور کے بند گرلز اسکول فوری فعال کیے جائیں، مستقل اساتذہ تعینات کیے جائیں اور تمام سرکاری اسکولوں میں صاف پانی، بیت الخلا اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ بچوں کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔

WhatsApp
Get Alert