ملک، آئین اور قومی سلامتی کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں جمعیت علماء اسلام نے دی ہیں، جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ ملک، آئین اور قومی سلامتی کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں جمعیت علماء اسلام نے دی ہیں۔ میدانِ سیاست میں شکست کھانے والے آج کرائے کے کرداروں اور منصوبہ سازوں کے مہروں کو قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، مگر انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ کرائے کی زبانیں تاریخ نہیں بدل سکتیں۔ جو خود قربانی، جدوجہد اور قومی خدمت سے محروم ہیں، وہ شہداء کے نام پر سیاست کرنے کا اخلاقی جواز بھی نہیں رکھتے۔ شہداء کی عظمت، ان کے لہو کی حرمت اور وطن کے دفاع کی قیمت ہم سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا، کیونکہ ہماری تاریخ نعروں سے نہیں بلکہ شہادتوں، قربانیوں اور مسلسل جدوجہد سے لکھی گئی ہے۔حب الوطنی نعروں، سوشل میڈیا مہمات یا سرٹیفکیٹس سے نہیں بلکہ آئین سے وفاداری، جمہوری کردار، قومی وحدت اور ریاستی استحکام کے لیے مسلسل عملی جدوجہد سے ثابت ہوتی ہے۔ حضرت مولانا فضل الرحمٰن اور جمعیت علمائ اسلام کی نصف صدی پر محیط سیاسی تاریخ اس حقیقت کی روشن گواہ ہے کہ جماعت نے ہر نازک مرحلے پر آئین، پارلیمان، جمہوریت، وفاقِ پاکستان اور قومی سلامتی کا ساتھ دیا۔ جمعیت علماء اسلام نظریاتی سرحدوں کی محافظ جماعت ہے، اس لیے اس کی سیاست ہمیشہ قومی خودمختاری، آئینی بالادستی اور ریاستی استحکام کے گرد مرکوز رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے خیبر تک کشیدہ حالات میں بھی جمعیت علمائ اسلام نے تصادم کے بجائے آئینی، جمہوری اور سیاسی جدوجہد کو فروغ دیا اور اپنے کارکنوں کو ہمیشہ قانون و آئین کے دائرے میں رہنے کی تلقین کی۔ ملکی سلامتی کے ہر حساس مرحلے پر جماعت نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ریاستِ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا عملی ثبوت دیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حب الوطنی جمعیت علمائ اسلام کے منشور، فکر اور عملی سیاست کا بنیادی ستون ہے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن کو سیاق و سباق سے ہٹ کر متنازع بنانے کی کوششیں سیاسی دیانت کے منافی ہیں۔ اختلافِ رائے ہر ایک کا حق ہے، مگر کردار کشی، میڈیا ٹرائل اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنا قومی سیاست اور جمہوری اقدار کے لیے نقصان دہ ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے ہمیشہ مذہبی طبقے کو آئین، پارلیمان اور جمہوری سیاست سے جوڑے رکھا، شدت پسندی کی مزاحمت کی، آمریت کا مقابلہ کیا اور ہر مشکل وقت میں ریاست، آئین اور قومی وحدت کا دفاع کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت علمائ اسلام اپنی حب الوطنی کے لیے نہ کسی فرد سے سند لیتی ہے اور نہ کسی ادارے سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ مانگتی ہے۔ ہماری سب سے بڑی شناخت آئینِ پاکستان سے غیرمتزلزل وابستگی، قومی خودمختاری، جمہوری تسلسل، وفاقِ پاکستان کے استحکام اور عوامی خدمت کے لیے نصف صدی پر محیط بے داغ جدوجہد ہے۔ جمعیت علماء اسلام نہ ماضی میں اصولوں پر سمجھوتہ کیا، نہ آج کسی دباؤ کے سامنے جھکے گی، کیونکہ ہماری سیاست اشخاص نہیں بلکہ آئین، اصول، قومی مفاد اور عوامی اعتماد کی سیاست ہے۔
