محکمہ آبپاشی میں کرپشن کا بازار گرم؛ بااثر مافیا پانی چوری کرنے لگا، حکومت کی سرپرستی میں بلوچستان کا ‘گرین بیلٹ’ صحرا میں تبدیل ہورہا ہے ‘ نیشنل پارٹی


ڈیرہ مراد جمالی(ڈیلی قدرت)نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری ایڈوکیٹ چنگیز حئی بلوچ نے کہا ہے کہ نصیرآباد ڈویژن، جسے بلوچستان کا “گرین بیلٹ” کہا جاتا ہے، شدید زرعی بحران سے دوچار ہے اور محکمہ ایریگیشن کی ناکامی کے باعث کاشتکاروں کو بروقت زرعی پانی فراہم نہیں کیا جا رہا، جس سے شالی (دھان) کی فصل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ نصیرآباد، جعفرآباد، اوستہ محمد، صحبت پور اور ڈیرہ مراد جمالی بلوچستان کی زرعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں ہر سال ہزاروں ایکڑ پر شالی، گندم اور دیگر نقد آور فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ تاہم اس سال نہروں میں پانی کی شدید قلت اور وارہ بندی کے ناقص نظام نے کسانوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ شالی کی پنری بڑی تعداد میں خشک ہو رہی ہے، جس سے زمینداروں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ایڈوکیٹ چنگیز حئی بلوچ نے الزام عائد کیا کہ محکمہ ایریگیشن زرعی پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق بااثر افراد اپنی من مانی سے پانی حاصل کر رہے ہیں، جبکہ چھوٹے کاشتکار اپنی فصلیں بچانے کے لیے دربدر پھر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر نصیرآباد ڈویژن جیسے زرعی علاقے میں کسان کو بروقت پانی فراہم نہ کیا گیا تو نہ صرف موجودہ فصلیں تباہ ہوں گی بلکہ بلوچستان کی غذائی پیداوار بھی متاثر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی غفلت کے باعث کسان اپنی عمر بھر کی جمع پونجی کھونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔نیشنل پارٹی کے رہنما نے حکومت بلوچستان اور محکمہ ایریگیشن سے مطالبہ کیا کہ نہروں میں فوری طور پر پانی کی فراہمی بحال کی جائے اور زرعی پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال پر فوری توجہ نہ دی گئی تو نیشنل پارٹی کسانوں کے ساتھ مل کر احتجاج کا دائرہ وسیع کرے گی۔

WhatsApp
Get Alert