گروپ کیپٹن عاصم طارق کا قاتل کٹہرے میں کھڑا رو پڑا، 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

تم نے معصوم گھر تباہ کیا، تمہیں اندازہ ہی نہیں تم نے ملک کا کتنا بڑا اثاثہ تباہ کیا ہے، اب رونے سے کیا فائدہ؟ رونے سے کیا وہ واپس آ جائے گا؟ جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کا ملزم سعد عباسی سے مکالمہ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کے قتل کیس میں اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے گرفتار ملزم سعد عباسی کو مزید 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا، سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں ملزم رونے لگا، جس پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سخت ریمارکس دیئے کہ تمہارے اس جرم نے ملک کا ناقابلِ تلافی نقصان کیا۔
اطلاعات کے مطابق گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کیس کی سماعت انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی، تفتیشی ٹیم اور پولیس نے گرفتار ملزم سعد عباسی کو سخت سکیورٹی میں عدالت کے سامنے پیش کیا۔ پراسیکیوٹر نوید کیانی نے عدالت کو اب تک کی تفتیش سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کی باقاعدہ شناخت کا عمل مکمل ہو چکا ہے، اڈیالہ جیل میں منعقدہ قانونی طریقہ کار کے تحت چشم دید گواہان کامران اور وسیم نے ملزم سعد عباسی کی باقاعدہ شناخت کرلی، پولیس کی جانب سے مزید تفتیش، آلہِ قتل اور دیگر شواہد کی برآمدگی کے لیے ملزم کے 20 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔
بتایا گیا ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران جب ملزم سعد عباسی کٹہرے میں کھڑا رو پڑا، تو جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اسے سخت لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا، اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب رونے کا کیا فائدہ؟ تم نے اس ملک کا بہت بڑا نقصان کردیا اور ایک پورا معصوم گھرانہ تباہ و برباد کر دیا، تمہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ تم نے اپنے اس جرم سے ملک کا کتنا بڑا اور قیمتی اثاثہ تباہ کیا ہے، کیا تمہارے اس طرح رونے دھونے سے وہ قومی سرمایہ اور انسان واپس آ جائے گا؟۔
معلوم ہوا ہے کہ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے اور کیس کے حساس نوعیت کے پیشِ نظر پولیس کی 20 روزہ ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ملزم سعد عباسی کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا اور پولیس کو ہدایت کی کہ تفتیش جلد از جلد مکمل کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔

WhatsApp
Get Alert