بلوچستان میں دہشتگردوں کے بعد ڈاکو بھی بے قابو ‘ جنازوں کا تقدس بھی پامال؛ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر مسلح ڈاکوؤں کا راج، خضدار سے 3 میتں مسلم باغ لے جانیوالا سوگوار خاندان لٹ گیا ‘ نقدی اور شناختی کارڈ چھین لیے گئے؛ قریب موجود فورسز کی مبینہ خاموشی پر سنگین سوالات

شاہراہیں جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر ہیں، واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ۔کراچی شاہراہ، بالخصوص مستونگ، منگوچر اور خضدار کا وسیع علاقہ آج عملاً مسلح جتھوں، دہشت گردوں، ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ صورتحال صوبائی حکومت، وفاقی حکومت اور امن و امان کے قیام کے ذمہ دار اداروں کی مسلسل ناکامی، نااہلی اور مجرمانہ غفلت کا واضح ثبوت ہے۔ جب ریاست اپنی بنیادی آئینی ذمہ داری، یعنی شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، کو پورا کرنے میں ناکام ہو جائے تو عوام میں عدم تحفظ، بے چینی، اضطراب اور ریاستی اداروں پر اعتماد کا متزلزل ہونا ایک فطری امر بن جاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ 17 جولائی، بروز جمعہ، خضدار کے قریب پیش آنے والے المناک ٹریفک حادثے میں ضلع مسلم باغ کے ایک ہی خاندان کے تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ غمزدہ لواحقین اپنے پیاروں کے جنازے لے کر کوئٹہ واپس آ رہے تھے کہ منگوچر کے مقام پر مسلح ڈاکوؤں اور جتھوں نے ان کی گاڑیوں کو روک کر انتہائی انسانیت سوز اور قابلِ مذمت کارروائی کی۔ جنازوں کے تقدس، اسلامی اقدار، قبائلی روایات اور انسانی احساسات کو پامال کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے نقدی، موبائل فون، شناختی کارڈ اور دیگر قیمتی سامان لوٹ لیا گیا۔ حتیٰ کہ جاں بحق افراد کے قومی شناختی کارڈ بھی نہ چھوڑے گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس سے زیادہ افسوسناک اور شرمناک واقعہ شاید ہی کوئی ہو کہ سوگ میں ڈوبے ہوئے خاندان کو بھی جرائم پیشہ عناصر نے نہ بخشا۔ یہ افسوسناک سانحہ اس حقیقت کا کھلا ثبوت ہے کہ شاہراہیں مکمل طور پر جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر ہیں اور بے گناہ شہری کسی بھی قسم کے مؤثر تحفظ سے محروم ہو چکے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک اور افسوسناک امر یہ ہے کہ جائے وقوعہ سے محض ایک فرلانگ کے فاصلے پر فرنٹیئر کور (ایف سی) کا قلعہ موجود تھا۔ متاثرہ خاندان نے فوری طور پر ایف سی اہلکاروں کو اطلاع دی کہ مسلح ڈاکو ابھی قریبی علاقے میں موجود ہیں، مگر اس کے باوجود نہ ان کا تعاقب کیا گیا، نہ علاقے کی ناکہ بندی کی گئی، نہ متاثرہ خاندان کی فوری مدد کی گئی اور نہ ہی ڈاکوؤں کی گرفتاری کے لیے کوئی مؤثر عملی اقدام اٹھایا گیا۔ بیان کے مطابق، اس کے برعکس متاثرین کو صرف یہ کہہ کر واپس بھیج دیا گیا کہ “آپ لوگ بخیریت یہاں تک پہنچ گئے، یہی بڑی بات ہے۔”
پارٹی کے مطابق یہ رویہ نہ صرف انتہائی افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور ناقابلِ قبول ہے بلکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری سے مکمل دستبرداری کے مترادف بھی ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ اگر سیکیورٹی ادارے جرائم پیشہ عناصر کی موجودگی اور کھلی سرگرمیوں کے باوجود خاموش تماشائی بنے رہیں، قومی شاہراہوں پر ڈاکو دندناتے پھریں اور شہریوں کو دن دہاڑے لوٹا جاتا رہے، تو عوام کے ذہنوں میں ریاستی اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے سنگین سوالات جنم لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومت اور متعلقہ اداروں پر لازم ہے کہ وہ عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کریں، کیونکہ صرف دعووں، بیانات اور پریس کانفرنسوں سے امن و امان قائم نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں کہا گیا کہ صوبے میں بدامنی، دہشت گردی، اغوا برائے تاوان، قومی شاہراہوں پر مسلح ڈکیتیاں، بھتہ خوری اور جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیاں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں، مگر حکومت کی ناقص حکمت عملی، کمزور انتظامی اقدامات اور متعلقہ اداروں کی ناکامی کے باعث عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ جب سوگوار خاندان اپنے پیاروں کے جنازوں سمیت بھی محفوظ نہ ہوں تو امن و امان کے حوالے سے حکومتی دعوے اپنی تمام تر حیثیت کھو دیتے ہیں اور عوام کے اندر مایوسی اور بے اعتمادی مزید گہری ہو جاتی ہے۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ منگوچر کے اس افسوسناک واقعے کی ایک بااختیار، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقاتی کمیٹی کے ذریعے مکمل تحقیقات کرائی جائیں، ملوث ڈاکوؤں، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی تحقیقات کی جائیں کہ جائے وقوعہ کے قریب موجود ایف سی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کیوں نہیں کی، متاثرین کی مدد کیوں نہیں کی گئی اور ڈاکوؤں کی گرفتاری کے لیے فوری اقدامات کیوں نہیں اٹھائے گئے۔ اگر کسی بھی قسم کی غفلت، کوتاہی یا ذمہ داری سے چشم پوشی ثابت ہو تو متعلقہ اہلکاروں کے خلاف بھی قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ سانحۂ زیارت کے شہداء کے لواحقین اور آل پارٹیز کی جانب سے امن و امان کی موجودہ صورتحال، ریاستی پالیسیوں اور متعلقہ اداروں کے کردار کے حوالے سے جن خدشات، تحفظات اور مطالبات کا اظہار کیا گیا تھا، ایسے پے در پے افسوسناک واقعات نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ پارٹی نے واضح کیا کہ حکومت اب نمائشی بیانات، دعوؤں اور وقتی اعلانات سے آگے بڑھے، قومی شاہراہوں پر ریاست کی عملداری ہر صورت بحال کرے، دہشت گردوں، ڈاکوؤں، جرائم پیشہ عناصر اور مسلح گروہوں کا بلاامتیاز خاتمہ یقینی بنائے اور شہریوں کے جان و مال، عزت و آبرو اور آزادانہ نقل و حرکت کے آئینی حق کا مکمل تحفظ فراہم کرے۔ بصورتِ دیگر صوبے میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال، عوام کے جان و مال کے ضیاع اور ریاستی عملداری کے فقدان کی تمام تر سیاسی، انتظامی اور آئینی ذمہ داری حکومت اور متعلقہ ریاستی اداروں پر عائد ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert