سانحہ مستونگ ‘ حکومت کی رٹ ختم ہو چکی، صوبائی حکومت فوری استعفیٰ دے: سینیٹر کامران مرتضیٰ
عوام کے تحفظ کے بجائے حکومتی ادارے مولانا صاحب کی کردار کشی میں مصروف ہیں

مستونگ میں ججز پر حملہ ریاستی رٹ پر سنگین سوالیہ نشان ہے، ملوث عناصر کو فوری گرفتار کیا جائے: صدر جمعیت وکلاء فورم
کوئٹہ(قدرت روزنامہ)جمعیت وکلاء فورم پاکستان کے مرکزی صدر اور سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے مستونگ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے سیشن جج اور ان کے گن مین کی شہادت، جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ سمیت دو افراد کے شدید زخمی ہونے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس سانحے کو صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا واضح عکاس قرار دیا۔
اپنے ایک بیان میں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی مخدوش صورتحال ہر شہری کے لیے باعثِ تشویش ہے، مگر افسوس کہ حکومت اور ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے مولانا صاحب کی کردار کشی میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق، اس طرزِ عمل سے نہ صرف عوامی مسائل پسِ پشت چلے گئے ہیں بلکہ ریاستی ترجیحات پر بھی سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دن دہاڑے قومی شاہراہ پر معزز عدالتی افسران کو نشانہ بنایا جانا ریاستی رٹ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جب عوام، سرکاری افسران اور عدلیہ کے نمائندے بھی محفوظ نہ ہوں، تو یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی رٹ عملاً ختم ہو چکی ہے اور عوام شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں، ایسے حالات میں صوبائی حکومت کی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے فوری طور پر استعفیٰ دے۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے شہید سیشن جج اور ان کے گن مین کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔ انہوں نے زخمی جوڈیشل مجسٹریٹ اور دیگر افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔
