خیبرپختونخوا حکومت کی آئینی عدالت سے این ایف سی شیئر میں اضافے کی استدعا

پشاور(قدرت روزنامہ)خیبرپختونخوا حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن یعنی این ایف سی ایوارڈ میں اپنے حصے میں اضافے کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔
وفاقی حکومت کے خلاف دائر آئینی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نئے این ایف سی کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر صدارتی حکم نامہ جاری کرنے کا حکم دیا جائے، جبکہ گرانٹ اِن ایڈ آرڈر کے تحت خیبرپختونخوا کا حصہ 14.79 فیصد مقرر کیا جائے۔
درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ 25ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کی تاریخ سے ضم شدہ اضلاع کے حصے کے تمام فنڈز جاری کرنے کا حکم بھی دیا جائے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پچیسویں آئینی ترمیم کے تحت سابقہ فاٹا اور پاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا گیا، تاہم اس کے باوجود این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے حصے میں آبادی اور نئے اضلاع کے مطابق اضافہ نہیں کیا گیا۔
درخواست گزار کے مطابق ضم شدہ اضلاع شامل ہونے کے باوجود خیبرپختونخوا کو اب بھی پرانے فارمولے کے تحت این ایف سی شیئر دیا جا رہا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 160 کی خلاف ورزی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے حصے میں اضافے سے متعلق وفاقی حکومت کے مؤقف کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ این ایف سی میں صوبے کے حصے میں اضافے کا معاملہ وفاقی حکومت، صدر مملکت اور این ایف سی کمیشن کے اجلاسوں سمیت تمام متعلقہ فورمز پر اٹھایا گیا، تاہم جائز مطالبے پر کسی سطح پر شنوائی نہیں ہوئی۔
درخواست کے مطابق موجودہ آئینی درخواست کی توثیق خیبرپختونخوا اسمبلی نے 13 جنوری کو کی تھی، درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان نے بھی این ایف سی ایوارڈ میں خیبرپختونخوا کے حصے میں اضافے کی حمایت کی ہے۔
