بلوچستان میں دہشت گردی، قتل، ڈکیتی، حادثات اور واقعات؛ 6 افراد جاں بحق، 25 سے زائد زخمی، نومولود کی لاش برآمد ،آپریشن میں 6 مبینہ دہشت گرد ہلاک

مستونگ میں سیشن جج اور گن مین شہید، تمبو میں 2 افراد قتل، دکی میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان دم توڑ گیا؛ ، ایف آئی اے و پولیس کارروائیوں میں 16 افراد گرفتار، متعدد مشتبہ افراد حراست میں


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ ) بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی، فائرنگ، ڈکیتی، ٹریفک حادثات اور بارشوں سے متعلق واقعات میں مجموعی طور پر 6 افراد جاں بحق اور 25 سے زائد زخمی ہوگئے، جبکہ پولیس نے نومولود بچے کی لاش بھی برآمد کرلی۔ مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران 6 مبینہ دہشت گرد ہلاک اور متعدد مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایف آئی اے اور پولیس کی الگ الگ کارروائیوں میں 16 افراد کو گرفتار یا حراست میں لیا گیا۔
مستونگ کی قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی گاڑی پر فائرنگ کردی، جس سے سیشن جج اور ان کے گن مین محمد زمان شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمی ایڈیشنل سیشن جج کو ابتدائی طبی امداد کے بعد کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔
نصیرآباد کے علاقے تمبو میں فائرنگ کے دو الگ واقعات میں عرفان علی چانڈیو اور محمد شعبان عمرانی جاں بحق ہوگئے۔ دکی کے علاقے سیلزئی کراس میں موٹرسائیکل چھیننے کی کوشش کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا نوجوان طارق لورالائی منتقل کیے جانے کے دوران دم توڑ گیا۔
ڈیرہ مراد جمالی میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے ایک شخص شدید زخمی ہوا، جبکہ دو موٹرسائیکلوں کے تصادم میں مزید 2 نوجوان زخمی ہوگئے۔ اوستہ محمد میں گورنمنٹ ہائی سکول کے قریب نہر کے پل کے نیچے سے نومولود بچے کی لاش برآمد کرکے ہسپتال منتقل کردی گئی۔
ژوب میں طوفانی بارشوں کے باعث کلی تورہ خلہ میں ایک بچہ جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ نصیرآباد ڈویژن میں شدید بارشوں، سیلاب اور نہری شگافوں سے درجنوں دیہات زیرِآب آگئے، سینکڑوں افراد بے گھر اور 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ متعدد مکانات منہدم، فصلیں تباہ اور مال مویشی سیلابی پانی میں بہہ گئے۔
بختیار آباد میں دریائے لہڑی سے ایک لاکھ 34 ہزار کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا گزرنے سے گھوگھی ڈیم ٹوٹ گیا اور متعدد دیہات اور فصلیں متاثر ہوئیں۔ کوہلو میں چار گھنٹے کی موسلادھار بارش سے نیصوبہ ڈیم بھر گیا اور درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ صحبت پور میں آندھی اور بارش سے بجلی کے کھمبے اور درخت گر گئے اور متعدد علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔
دکی میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس تھانہ نرہن کو بارودی مواد سے اڑا دیا، جس سے عمارت کے کمروں اور دیواروں کو نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کے دوران 6 مبینہ دہشت گرد ہلاک اور متعدد مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے۔ گرفتار افراد میں مبینہ خواتین خودکش حملہ آور اور سہولت کار بھی شامل بتائے گئے ہیں، جبکہ ٹھکانوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
کوئٹہ میں ایف آئی اے نے نادرا، پاسپورٹ آفس، سوئی سدرن گیس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کے نام پر مبینہ غیر قانونی سہولت کاری اور شہریوں سے فراڈ میں ملوث 14 ایجنٹوں کو گرفتار کرلیا۔ برشور پولیس نے افیون کی فصل تلف کرتے ہوئے 2 افغان باشندوں کو حراست میں لے لیا۔
وندر میں مونبار ندی اور سسئی پنوں کے کچے راستوں سے نان کسٹم پیڈ اشیا کی مبینہ اسمگلنگ اور بعض پولیس اہلکاروں کی جانب سے فی گاڑی 25 سے 30 ہزار روپے وصول کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

WhatsApp
Get Alert