عمران خان کو ہمیشہ پلے بوائے اور نشئی کے طور پر پیش کیا گیا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پی ٹی آئی رہنماء شیر افضل خان مروت نے کہا ہے کہ عمران خان کو ہمیشہ پلے بوائے اور نشئی کے طور پر پیش کیا گیا، اٹک جیل میں ان سے ملا تو انہوں نے جائے نماز اور قرآن پاک فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان سے قربت کا موقع 2022 میں ملا،مجھے بنی گالہ میں بلایا کہ فوجداری کیسز بن رہے ہیں، دراصل میری اسلام آباد میں بڑی عالی شان پریکٹس رہی ہے، کریمنل ، سائبر، ٹیررازم ، نارکوٹکس کیسز، ریپ اور قبضہ کیسز میں اچھی پریکٹس رہی ہے۔
اسی دوران رمضان آگیا، سیاسی مشورے بھی دینے شروع کردیئے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ میں ان کا معتمد خاص ہوا کرتا تھا۔
"والد کے انتقال کے بعد ہم نے اپنے قبیلے کی سیاست اور قیادت سنبھالی۔ 2017 میں تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 2022 میں عمران خان کے ساتھ قریب سے کام کرنے اور ان کا اعتماد حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اٹک جیل میں جب میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی تو انہوں نے سب سے پہلے مجھ سے جائے… pic.twitter.com/NO9RLujoYz
— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) July 24, 2026
عمران خان کا لوگوں پر فوری اعتماد کرنا خامی ہے۔
عمران خان کو پلے بوائے اور نشئی کے طور پر پیش کیا گیا تھا، ان کا پکچر ایسے پوٹریٹ کیا گیا جیسے وہ مذہب سے دور ہیں۔
میں ان کو اٹک اور اڈیالہ جیل میں قریب سے دیکھا۔
اٹک جیل میں عمران خان سے ملاتو انہوں نے مجھ سے جائے نماز اور قرآن پاک فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔قیدی بتاتے تھے کہ عمران خان تہجد کی نماز پڑھتے ہیں، قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ ان کا میرے لئے ایک نیا روپ تھا۔عمران خان جیل میں تھے تو سب متوقع تھے کہ چیخ پکار ہوگی کہ کوکین یا نشہ دیا جائے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، یہ سب بے بنیاد الزامات تھے۔
