گندم کا مصنوعی بحران اور آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ؛ اراکینِ بلوچستان اسمبلی کی سخت تشویش

حکومتی نااہلی کے باعث غریب عوام 20 کلو آٹا 2500 روپے میں خریدنے پر مجبور ہیں بحران پر قابو پا کر غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف شفاف تحقیقات کی جائیں: زرک خان، فضل قادر، رحمت صالح اور میر یونس زہری


کوئٹہ (ڈیلی قدرت) اراکین بلوچستان اسمبلی نے کوئٹہ شہر اور اطراف کے اضلاع میں گندم کے مصنوعی بحران اور آٹے کی نرخوں میں ہوشربا اضافہ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی نااہلی ، ناکامی اور نا تجربہ کاری کے باعث غریب عوام20کلو آٹے کا تھیلا 2500روپے خریدنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ صوبے میں گندم کی قلت کی ذمہ دارصوبائی حکومت اور محکمہ خوراک ہے ،بروقت موثر اقدامات اگر اٹھائے جاتے تو آج نہ عوام کو مشکلات کا سامنا کرناپڑتا اور نہ ہی فلور مالکان مشکلات سے دوچار ہے‘ان خیالات کا اظہار رکن اسمبلی زرک خان مندوخیل‘جے یو آئی کے رکن اسمبلی فضل قادر مندوخیل‘نیشنل پارٹی کے رحمت صالح بلوچ‘اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے الگ الگ بات چیت کرتے ہوئے کیا اراکین بلوچستان اسمبلی نے کہ اہے کہ حکومتی غفلت اور محکمہ خوراک کی بدانتظامی کے باعث سخت ترین مہنگائی میں عوام کو فاقوں پر مجبور کیا جارہا ہے کیونکہ عوام سخت ترین بیروزگار اور بدترین مہنگائی میں مہنگے داموں آٹا خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔اور اب تو صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ مختلف اضلاع کے دور دراز علاقوں ، دیہاتوں میں آٹا میسر ہی نہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ، پشین ، چمن ، قلعہ ،عبداللہ ، ہرنائی ، سبی ، زیارت، لورالائی ، دکی ، موسیٰ خیل ، قلعہ سیف اللہ ، ژوب ، شیرانی ،بارکھان، کوہلو اور دیگر اضلاع کے عوام اس وقت مہنگا آٹا خرید رہے ہیں ، ان اضلاع میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے ۔ 20 کلو آٹے کی بوری کی قیمت 2500 روپے، 50 کلو والے تھیلے کی قیمت 7000اور 100 کلو تھیلے کی قیمت 12,000 روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ ایسے میں بعض ذخیرہ فروشوں نے مہنگائی کو مزید پر لگادیئے ہیں۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہے کہ گندم بحران پر قابو پاکر آٹے کی قیمتوں کوکم کرنے اور تمام علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر آٹے کی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھائے جائے ۔ اورآٹے کا مصنوعی بحران پیدا کرنے اور بداانتظامی وغفلت کے مرتکب افراد کے خلاف شفاف تحقیقات کرکے کارروائی کی جائے۔

WhatsApp
Get Alert