ٹرمپ نے ایران پر حملے روکنے کا حکم دے دیا، امریکی میڈیا کا دعویٰ

واشنگٹن (قدرت روزنامہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مسلسل دو ہفتوں تک روزانہ کی بنیاد پر حملوں کے بعد امریکی فوج کو ہدایت کی ہے کہ فی الحال ایران پر نئے حملے نہ کیے جائیں۔

امریکی نیوز آؤٹ لیٹ ’ایگزیوس‘ کے مطابق، یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکی انتظامیہ سفارت کاری کے لیے موقع پیدا کرنا چاہتی ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی پیدا ہو رہا ہے کہ موجودہ سطح کے حملے اپنی افادیت کے آخری مرحلے تک پہنچ چکے ہیں۔

تاہم، امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے ایران پر حملے روکنے کی وجہ بتاتے ہوئے لکھا کہ امریکا کی سینیئر فوجی قیادت نے ٹرمپ کو بتایا ہے کہ اگر حملے اسی طرح جاری رہے تو خطے میں اور امریکا کے پاس موجود انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو جائے گا۔

انٹرسیپٹر ان میزائلوں کو کہا جاتا ہے جو دشمن کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کر دیتے ہیں۔

ایران نے ایک چالاک حکمتِ عملی اختیار کی ہوئی ہے جس کے تحت اہداف کی جانب چھوٹے اور سستے ڈرونز بھیجے جاتے ہیں جنہیں تباہ کرنے کے لیے امریکا اور خلیجی ممالک مہنگے انٹرسیپٹرز استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایران اپنے بڑے میزائل بھیجتا ہے جو کامیابی سے اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔

اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے باقاعدہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم، رپورٹ کے مطابق، امریکی فوج کو ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پچھلے دو ہفتوں سے معمول تھا کہ ہر روز فوج کی جانب سے حملوں کا منصوبہ صدر کو پیش کیا جاتا تھا اور منظوری ملتے ہی چند گھنٹوں میں کارروائی کر دی جاتی تھی، لیکن جمعہ کے روز جب یہ پلان پیش کیا گیا تو صدر ٹرمپ نے اسے گرین سگنل نہیں دیا۔

اس فیصلے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ”ہم اس وقت ایرانیوں سے بات چیت کر رہے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں وہ مزید سنجیدہ ہو رہے ہیں، ہم ہر طرح سے تیار ہیں لیکن ہماری گفتگو جاری ہے“۔

بعد میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم ان سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور میں ان کا موقف سننے کے لیے ہمہ وقت تیار ہوں“۔

رپور٪ٹ میں دعرویٰ کی گیا کہ امریکی حملے روکنے کے اس فیصلے سے قبل اسرائیلی دفاعی فورسز اور سیکیورٹی کابینہ مزید شدید حملوں اور اس کے نتیجے میں ایرانی ردِعمل کی تیاریوں میں مصروف تھیں، تاہم جمعہ کی رات اسرائیل کو آگاہ کر دیا گیا کہ فی الحال مزید حملوں کی منظوری نہیں دی گئی۔

یہ تمام پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عمان کا ایک وفد خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے سلسلے میں بات چیت کے لیے تہران پہنچا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے اور عمان اور ایران کے درمیان کسی معاہدے کا امکان موجود ہے، جس کے بعد حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ کو کرنا ہو گا۔

اس سفارتی پہل کے باوجود سمندر میں امریکی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ ہے اور ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے بارہ تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔

WhatsApp
Get Alert